حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 554 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 554

554 وَمِائَةَ دِينَارٍ عَلَى أَنْ تُخَلِي بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِهَا ، فَفَعَلَتْ حَتَّى إِذَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا، قَالَتْ لَا أُحِلُّ لَكَ أَنْ تَفْضَ الخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، فَتَحَرَّجْتُ مِنَ الوُقُوعِ عَلَيْهَا، فَانْصَرَفْتُ عَنْهَا وَهِيَ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى، وَتَرَكْتُ الذَّهَبَ الَّذِي أَعْطَيْتُهَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافُرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ، فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ الخُرُوجَ مِنْهَا ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجَرَاءَ، فَأَعْطَيْتُهُمْ أَجْرَهُمْ غَيْرَ رَجُلٍ وَاحِدٍ تَرَكَ الَّذِى لَهُ وَذَهَبَ فَتَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّى كَثُرَتْ مِنْهُ الأَمْوَالُ، فَجَاءَنِي بَعْدَ حِينٍ فَقَالَ يَا عَبْدَ الله أَدَى إِلَى أَجْرِى فَقُلْتُ لَهُ كُلُّ مَا تَرَى مِنْ أَجْرِكَ مِنَ الإِبِلِ وَالبَقَرِ وَالغَنَمِ وَالرَّقِيقِ، فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْتَهْزِ بِي، فَقُلْتُ إِنِّي لَا أَسْتَهْزِهُ بِكَ، فَأَخَذَهُ كُلَّهُ، فَاسْتَاقَهُ ، فَلَمْ يَتْرُكُ مِنْهُ شَيْئًا، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافُرُجْ عَنَّا مَا نَحْنُ فِيهِ، فَانْفَرَجَتِ الصَّخْرَةُ، فَخَرَجُوا يَمْشُونَ (بخاری کتاب الاجارة باب من استأجر اجیرا فترک اجره فعمل فيه۔۔۔2272) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے کہ ان لوگوں میں سے جو تم سے پہلے تھے ، تین آدمی کسی سفر میں نکلے، یہاں تک کہ ایک غار میں۔رات بسر کرنے کے لئے داخل ہو گئے۔اُوپر سے ایک پہاڑ کا بڑا پتھر گرا اور انہیں غار میں بند کر دیا۔اس پر وہ کہنے لگے اس پتھر سے ہمیں کوئی نجات نہیں دے گا ہاں تم اللہ سے اپنے نیک اعمال کا واسطہ دے کر دعا کرو تو یہ مشکل حل ہو سکتی ہے)۔تب ان میں سے ایک شخص نے کہا اے میرے اللہ !میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میں اُن سے پہلے کسی اور کو دودھ نہ پلاتا تھا، نہ بال بچوں کو نہ نوکروں کو۔ایک دن میں کسی چیز کی تلاش میں دور نکل گیا اور شام کو اُس وقت واپس آیا کہ وہ سو گئے تھے۔میں نے ان کے لئے ان کے شام کے پینے کا دودھ دوہا مگر انہیں سویا ہوا پایا، اور میں نے پسند نہ کیا کہ اُن سے پہلے بال بچوں یا لونڈی غلام کو دودھ پلاؤں۔میں ٹھہر گیا۔پیالہ میرے ہاتھ میں تھا، اُن کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا، یہاں تک کہ جب خوب صبح ہو گئی اور وہ دونوں جاگ