حدیقۃ الصالحین — Page 530
530۔کرنے کے لئے مناسب تاریخ اور وقت دو تا کہ وہ اپنے دعویٰ کے حق میں ثبوت اکٹھے کر سکے۔اگر مقررہ تاریخ پر وہ ثبوت اور بینہ پیش کر سکے تو فبہاور نہ اس کے خلاف فیصلہ سنادو۔یہ طریق اندھے پن کو جلا بخشنے والا ہے۔اور بے خبری کے اندھیرے کو روشن کرنے والا ہے یعنی اس سے الجھا ہوا معاملہ سلجھ جائے گا اور ہر قسم کے عذر اور اعتراض کا موثر جواب ہو گا۔سب مسلمان برابر شاہد عادل ہیں ایک دوسرے کے حق میں اور ایک دوسرے کے خلاف گواہی دے سکتے ہیں اور ان گواہیوں کے مطابق فیصلہ ہو گا سوائے اس کے کہ کسی کو حد کی سزامل چکی ہو۔یا اس کے جھوٹی شہادت دینے کا تجربہ ہو چکا ہو یاوہ غلط ولاء یا قرابت کے دعوئی میں متہم ہو۔مولیٰ کسی اور کا ہو اور دعوی کسی کے مولیٰ ہونے کا کرے یا اس کا اصل رشتہ کسی اور شخص یا قوم سے ہو اور دعویٰ کسی اور کے رشتہ دار ہونے کا کرے یعنی حسب و نسب کے دعویٰ میں جھوٹا ہو ایسے خفیف الحرکت شخص کے سچا ہونے پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔باقی سب مسلمان گواہ بننے کے اہل ہونے کے لحاظ سے برابر ہیں کیونکہ کسی کے دل میں کیا ہے ؟ اصل راز اور سچائی کیا ہے ؟ اسے اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔اگر کوئی غلط بیانی کرے گا تو خدا اس کو اس کی سزا دے گا۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں بینات اور گواہیوں کے ذریعہ معاملات نپٹانے کا مکلف بنایا ہے۔یہ بھی یاد رکھو کہ تنگ پڑنے سے بچو۔جلد گھبر اجانے اور لوگوں سے تکلیف اور دکھ محسوس کرنے اور فریقین مقدمہ سے تنفر اور اجنبی پن سے کبھی پیش نہ آؤ۔حق اور سچ معلوم کرنے کے مواقع میں اس طرز عمل سے بچنا اور حق شناسی کی صحیح کوشش کرنا۔اللہ اس کاضر ور اجر دے گا اور ایسے شخص کو نیک شہرت بخشے گا۔جو شخص اللہ کی خاطر خلوص نیت اختیار کرے گا اللہ اسے لوگوں کے شر سے بچائے گا اور جو شخص محض بناوٹ اور تصنع سے اپنے آپ کو اچھا ظاہر کرنے کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ کبھی نہ کبھی اس کا راز فاش کر دے گا اور اس کی رسوائی کے سامان پیدا کر دے گا۔