حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 529 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 529

529 فَإِنَّهُ مَنْ يُخْلِصُ نِيَّتَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللهِ يَكْفِهِ اللهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ تَزَيَّنَ لِلنَّاسِ بِمَا يَعْلَمُ اللهُ مِنْهُ غَيْرَ ذَلِكَ ، شَانَهُ اللَّهُ سنن دار قطنى ، كتاب الاقضيه و الاحكام ، باب کتاب عمر رضی الله عنه الى ابي موسى (4472) حضرت سعید بن ابو بردہ نے امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب کا ایک خط نکالا جو انہوں نے اپنے ایک والی حضرت ابو موسیٰ اشعری کو لکھا تھا۔یہ خط مشہور محدث سفیان عیینہ کے سامنے پڑھا گیا۔اس کا مضمون یہ تھا۔امابعد۔قضاء ایک محکم اور پختہ دینی فریضہ اور واجب الاتباع سنت ہے۔جب کوئی مقدمہ یا کیس آپ کے سامنے پیش ہو تو معاملہ کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرو کیونکہ صرف حق بات کہنا اور اس کے نفاذ کی کوشش نہ کرنا بے فائدہ ہے ( یعنی عدل و انصاف کا وعظ کرنا اور عملا لوگوں کو صحیح انصاف مہیا نہ کرنا ایک بریار وعظ ہو گا) کیا بلحاظ مجلس، کیا بلحاظ توجہ ، اور کیا بلحاظ عدل و انصاف سب لوگوں کے درمیان مساوات قائم رکھو۔سب سے ایک جیسا سلوک کرو تا کہ کوئی با اثر تم سے ظلم کرانے کی امید نہ رکھے اور کسی کمزور کو تیرے ظلم وجور کاڈر اور اندیشہ نہ ہو اور ثبوت پیش کرنا مدمی کا فرض ہے اور (اگر اس کے پاس ثبوت نہ ہو تو پھر) قسم منکر مدعی علیہ پر آئے گی۔مسلمانوں کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کرنا اچھی بات ہے۔ہاں ایسی صلح کی اجازت نہیں ہونی چاہئے جس کی وجہ سے حرام حلال بن رہا ہو اور حلال حرام یعنی خلاف شریعت صلح جائز نہ ہو گی۔اگر تم کوئی فیصلہ کرو اور پھر غور و فکر کے بعد اللہ کی ہدایت سے دیکھو کہ فیصلہ میں غلطی ہو گئی ہے۔صحیح فیصلہ اور طرح ہے تو اپنا کل کا فیصلہ واپس لینے اور اسے منسوخ کرنے میں ذرہ برابر ہچکچاہٹ یا شرم محسوس نہیں کرنی چاہئے کیونکہ حق اور عدل ایک قدیمی صداقت ہے اور حق اور سچ کو کوئی چیز باطل اور غلط نہیں بنا سکتی اس لئے حق کی طرف لوٹ جانا اور حق کو تسلیم کر لینا باطل میں پھنسے رہنے اور غلط بات پر مصر رہنے سے کہیں بہتر ہے جو بات تیرے دل میں کھٹکے اور قرآن و سنت میں اس کے بارہ میں کوئی وضاحت نہ ہو تو اس کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرو اس کی مثالیں تلاش کرو۔اس سے ملتی جلتی صورتوں پر غور کرو پھر ان پر قیاس کرتے ہوئے کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش کر و اور جو پہلو اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ پسندیدہ لگے اور حق اور سچ کے زیادہ مشابہ نظر آئے اسے اختیار کرو مدعی کو ثبوت پیش