حدیقۃ الصالحین — Page 523
523 حضرت عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ایم نے فرمایا اگر کوئی شخص اپنے امیر میں کوئی ناگوار یا بظاہر نظر بری بات دیکھے تو وہ صبر کرے یعنی جماعت سے وابستہ رہے۔کیونکہ جو شخص تھوڑا سا بھی جماعت سے الگ ہو جاتا ہے اور تعلق توڑ لیتا ہے وہ جہالت کی موت مرتا ہے۔حکومت اور عہدہ کی طلب ناپسندیدہ ہے 666 - عَنِ الحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْن سَمُرَةَ لَا تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ (بخاری کتاب الاحكام باب من سال الامارة وكل منها 7147) حضرت عبد الرحمن بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تم نے مجھے فرمایا اے عبد الرحمن ! تو امارت اور حکومت نہ مانگ، اگر تجھے بغیر مانگے یہ عہدہ ملے تو اس ذمہ داری کے بارہ میں تیری مدد کی جائے گی یعنی اللہ تعالیٰ تیری مدد کرے گا اور اگر تیرے مانگنے پر یہ عہد و تجھے دیا گیا تو تو اس کی گرفت میں ہو گا۔تائید الہی سے محروم رہے گا۔اور جب تو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے متعلق قسم کھائے اور پھر اس قسم کے بر عکس تجھے بہتر بات نظر آئے تو وہ بہتر بات کر اور اپنی قسم کو توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کر۔