حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 519 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 519

519 حضرت ابو فراس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ایک تقریر میں کہا کہ میں نے اپنے عمال کو تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا کہ وہ تمہیں ماریں پیٹیں اور تمہارا مال و اسباب چھین لیں۔اگر کسی حاکم نے ایسا کیا ہے تو مجھے بتاؤ میں اس سے بدلہ دلاؤں۔عمرو بن عاص کہنے لگے اگر کوئی حاکم رعیت کے کسی فرد کو تادیب کی غرض سے سزا دے تو کیا آپ اس سے بھی بدلہ لیں گے۔حضرت عمرؓ فرمانے لگے خدا کی قسم میں اس سے بھی بدلہ لوں گا۔پھر آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی علیہم کو دیکھا کہ آپ صلی عوام نے خود اپنے آپ کو بدلہ کے لئے پیش کیا۔( مقصد یہ ہے کہ ثبوت اور باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بغیر انتظامیہ کے کسی فرد کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ کسی کو من مانی سزا دے)۔الله الله 658 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي، قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ قَسْمًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبْ عَلَيْهِ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ، فَجرِحَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَالَ فَاسْتَقِدُ فَقَالَ بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللهِ (ابوداؤد کتاب الديات باب القود من الضربة و قص الامير من نفسه 4536) حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ل کر مال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے کہ ایک شخص آپ صلی یہ ظلم پر جھک گیا۔آپ صلی الی یکم نے اسے اپنی سوئی چبھو کر پرے کیا۔جس کی وجہ سے اس کا چہرہ کچھ زخمی ہو گیا۔اس پر رسول اللہ صلی العلیم نے اس شخص سے کہا کہ مجھ سے بدلہ لے لو اس شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں نے معاف کیا۔