حدیقۃ الصالحین — Page 39
39 يَنْحَظُ مِنْ صَبَبٍ، وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا ، خَافِضُ الطَّرْفِ، نَظَرُهُ إِلَى الْأَرْضِ أَطْوَلُ مِنْ نظر إلى السَّمَاءِ، جُلُّ نَظرِهِ الْمُلَاحَظةُ، يَسُوقُ أَصْحَابَهُ وَيَبْدَأُ مَنْ لَقِي بِالسَّلَامِ (شمائل النبي باب فى خلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 7) حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں حضرت ھند بن ابی حالہ سے نبی صلی علیہ کم کا حلیہ مبارک پوچھا اور وہ نبی صلی این کم کا حلیہ خوب بیان کرتے تھے اور میں چاہتا تھا کہ وہ میرے سامنے بھی اُن (خد و خال) کا کچھ ذکر کریں جس سے میں چمٹ جاؤں تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی للی کم بارعب اور وجیہ شکل و صورت کے تھے۔آپ کا چہرہ مبارک یوں چمکتا جیسے چودھویں کا چاند۔آپ میانہ قد سے کسی قدر دراز اور طویل القامت سے کسی قدر چھوٹے تھے۔سر بڑا تھا، بال خمدار ( یا کسی قدر بہر دار ) اگر مانگ سہولت سے نکل آتی تو نکال لیتے ورنہ نہ نکالتے۔جب بال زیادہ ہوتے تو کانوں کی لو سے بڑھ جاتے۔پھول سا رنگ، کشادہ پیشانی، ابر و لمبے باریک اور بھرے ہوئے ، باہم ملے ہوئے نہ تھے ان کے درمیان ایک رگ تھی جو جلال میں نمایاں ہو جاتی ، ناک ستواں جس پر نور جھلکتا تھا، سرسری دیکھنے والے کو اُٹھی ہوئی نظر آتی تھی، ریش مبارک گھنی رخسار نرم، و آن کشاده، دانت رکندار آنکھوں کے کوئے باریک، آپ کی گردن خوبصورت اور لمبی صراحی دار جس پر سرخی جھلکتی تھی۔صفائی میں چاندی کی مانند۔اعضاء متوازن تھے۔بدن کچھ بھاری مگر نہایت موزوں اور مضبوط۔شکم و سینہ ہموار۔چوڑے سینے والے۔دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا۔جوڑ مضبوط اور بھرے ہوئے۔جسم چمکتا ہوا اور بالوں سے خالی، سینہ اور پیٹ بالوں سے صاف سوائے ایک بار یک دھاری کے جو سینے سے ناف تک ایک خط کی طرح جاتی تھی۔دونوں بازوؤں اور کندھوں اور سینے کے بالائی حصہ پر بال تھے۔کلائیاں دراز ہتھیلی چوڑی، ہاتھ اور پاؤں گوشت سے پر اور نرم، انگلیاں دراز ، تلوے قدرے گہرے ، قدم نرم اور چکنے کہ پانی ان پر نہ ٹھہرے۔جب چلتے تو قوت سے قدم اُٹھاتے۔قدرے آگے جھکتے ہوئے قدم اُٹھاتے آپ فروتنی کے ساتھ چلتے، تیز رفتار تھے جب چلتے تو یوں لگتا جیسے بلندی سے اتر رہے ہوں جب کسی طرف رخ فرماتے تو پوری طرح فرماتے۔نظر جھکائے رکھتے، اوپر آسمان کی طرف