حدیقۃ الصالحین — Page 507
507 نافع سے روایت ہے کہ یزید بن معاویہ کے زمانہ میں جب حزہ کا واقعہ ہوا تو حضرت عبد اللہ بن عمر عبد اللہ بن مطیع کے پاس آئے انہوں (عبد اللہ بن مطیع) نے کہا ابو عبد الرحمان کے لئے تکیہ لگاؤ انہوں (حضرت ابن عمرؓ) نے کہا میں نے رسول اللہ صلی علی کلم سے سنا آپ فرما رہے تھے جس نے اطاعت سے ہاتھ کھینچ وہ قیامت سة کے دن اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو گی اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔640 - حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءِ العُطَارِدِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرُ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الجماعة شبرا فَمَاتَ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةٌ (بخاری کتاب الفتن باب قول النبى الله سترون بعدی امورا۔۔۔7054) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ال یکم نے فرمایا جو شخص اپنے سردار اور امیر میں کوئی ایسی بات دیکھے جو اسے پسند نہ ہو تو صبر سے کام لے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی دور ہوتا ہے وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔641 - عَنْ عَرْفَجَةً، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشْقَ عَصَاكُمْ، أَوْ يُفَزِقَ جَمَاعَتَكُمْ، فَاقْتُلُوهُ (مسلم کتاب الامارة باب حكم من فرق المسلمين هو مجتمع 3429) حضرت عرفجہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علی نظم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تمہارے پاس آئے۔تم ایک شخص پر متفق ہو اور وہ تمہارا عصا تو ڑنا چاہے یا تمہاری جماعت میں تفرقہ پیدا کرنا چاہے تو اسے قتل کر دو۔