حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 498 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 498

498 ياعمر، فأبي عُمَرُ أَنْ تَجْلِسَ، فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَتَرَكُوا عُمَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا بَعْدُ فَمَن كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَقٌّ لَا يَمُوتُ، قَالَ اللهُ: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ إِلَى قَوْلِهِ الشَّاكِرِينَ وَقَالَ وَاللهِ لَكَانَ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى تَلَاهَا أَبو بَكْرٍ، فَتَلَقَاهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ، فَمَا أَسْمَعُ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ إِلَّا يَتْلُوهَا فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ المُسَيْبِ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ تَلَاهَا فَعَقِرْتُ، حَتَّى مَا تُقِلُنِي رِجْلاكَ، وَحَتَّى أَهْوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ حِينَ سَمِعْتُهُ تَلاهَا، عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدُمَات (بخاری کتاب المغازی باب مرض النبي الله و وفاته 4454،4453،4452) حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی علیم کی وفات کی خبر سن کر اپنے مکان سے جو سخ نامی محلہ میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور مسجد کے قریب گھوڑے سے اتر کر کسی سے کوئی بات کئے بغیر مسجد میں آئے اور حضرت عائشہ کے حجرے میں گئے رسول اللہ صلی الی یکم کا چہرہ مبارک منقش کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا آپ صلی علیم نے چہرہ مبارک سے کپڑا اٹھایا جھک کر بوسہ دیا اور رو کر کہا میرے ماں باپ آپ سی ایم پر فدا ہوں خدا کی قسم ! اللہ تعالی آپ صلی علیم کے لئے دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا جسمانی وفات تو ہو چکی لیکن آپ صلی اللہ کا لایا ہوا دین کبھی نہیں مٹ سکتا حضرت عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں جب حضرت ابو بکر آنحضرت صلی یہ کام کے حجرے سے باہر آئے اور مسجد میں گئے تو آپ نے دیکھا کہ حضرت عمر لوگوں سے باتیں کر رہے ہیں آپ نے کہا اے عمر بیٹھ جائے لیکن حضرت عمر نہ بیٹھے تا ہم لوگ حضرت عمر کو چھوڑ کر حضرت ابو بکر کی طرف متوجہ ہو گئے آپ نے ان میں تقریر کی اور حمد و ثناء کے بعد کہا کہ جو شخص تم میں سے محمد صلی للی یکم کی عبادت کرتا تھا اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ تو فوت ہو گئے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اسے یقین ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا اللہ تعالی خود قرآن کریم میں فرماتا ہے