حدیقۃ الصالحین — Page 474
474 وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَرِجَالٌ، فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا ؟ قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ ، يَجْعَلُهَا اللهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ (نسائی کتاب الجنائز باب الامر بالاحتساب و الصبر عند نزول المصيبة 1868) حضرت اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ایم کی صاحبزادی نے حضور صلی علیکم کے پاس پیغام بھیجا کہ میرا الله لڑکا قریب المرگ ہے آپ ذرا جلدی تشریف لاویں۔حضور علی یی کم نے فرمایا کہ اس سے میر اجاکر سلام کہو اور کہو کہ صبر کرے۔اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے اور وہی لے لیتا ہے اور اس نے ہر چیز کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔آپ کی صاحبزادی نے پھر پیغام بھیجا کہ آپ کو قسم ہے۔خدا کے واسطے آپ ضرور تشریف لاویں۔حضور صلی یی کم چلنے کے لئے کھڑے ہوئے آپ کے ہمراہ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت اور کئی اور لوگ تھے جب آپ صلی نیز کم وہاں پہنچے تو بچے کو آپ کی گود میں دے دیا گیا بچہ جان کنی کی حالت میں تھا یہ دیکھ کر حضور صلی اینم کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔حضرت سعد بن عبادہ کہنے لگے۔حضور یہ کیا! آپ رو ر ہے ہیں۔حضور صلی یکم نے فرمایا یہ رحم کے آنسو ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہر بندے کے دل میں فطرۃ ودیعت کیا ہے اور اللہ تعالیٰ رحم کرنے والوں پر ہی رحم کرتا ہے۔الله سة 601- حدثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنِ امْرَأَةٍ، مِنَ الْمُبَايِعَاتِ، قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَعْرُوفِ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نَعْصِيَهُ فِيهِ : أَنْ لَا نَخْمَشَ وَجْهَا ، وَلَا نَدْعُوَ وَيْلًا، وَلَا نَشُقِّ جَيْبًا، وَأَنْ لَا نَنْشُرَ شَعْرًا (ابو داؤد کتاب الجنائز باب في النوح (3131)