حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 472 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 472

472 حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علی کرم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے بچہ کو وفات دیتا ہے تو اپنے ملائکہ سے کہتا ہے کیا تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی، اس پر فرشتے جواب دیتے ہیں ہاں ہمارے اللہ ! پھر فرماتا ہے تم نے اس کے دل کی کلی توڑ لی۔فرشتے جواب دیتے ہیں ہاں، ہمارے اللہ ! پھر وہ پوچھتا ہے۔اس پر میرے بندے نے کیا کہا؟ فرشتے کہتے ہیں۔اس نے تیری حمد کی اور انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا اس پر اللہ تعالیٰ کہتا ہے تم میرے اس صابر و شاکر بندے کے لئے جنت میں ایک گھر تعمیر کر و اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔598ـ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأُجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي مِنْهَا خَيْرًا۔فَلَمَّا احْتُضِرَ أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ اللَّهُمَّ اخْلُفْ فِي أَهْلِي خَيْرًا مِنِّي، فَلَمَّا قُبِضَ قَالَتْ: أَمُّ سَلَمَةَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، عِنْدَ اللَّهِ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا (ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء في عقد التسبيح باليد (3511) حضرت ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا جب تم میں سے کسی پر مصیبت آئے تو وہ انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھے اور دعا مانگے کہ میرے اللہ ! میں تیرے حضور اپنی مصیبت کو پیش کرتا ہوں مجھے اس کا بہتر اجر دے اور اس کے بدلہ میں خیر اور برکت مجھے عطا کر۔پس جب ابو سلمہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے دعا کی۔اے میرے اللہ ! میرے اہل کو میرے بدلہ میں اچھا قائم مقام عطا کرنا۔جب ان کی وفات ہو گئی تو حضرت ام سلمہ نے انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور دعا کی کہ میں اپنی مصیبت تیرے حضور پیش کرتی ہوں تو مجھے اس کا بہتر اجر دے (چنانچہ ایسا ہوا کہ حضرت ام سلمہ کی شادی آنحضرت صلی علیکم سے ہو گئی اور اس طرح بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا)۔