حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 459 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 459

459 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمٍ أَخِيهِ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِي مَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحُ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا (مسلم کتاب النکاح باب تحريم الجمع بين المراة وعمتها 2505) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی علیم نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام نہ دے اور نہ ہی اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے اور کسی عورت کا نکاح اس کی پھوپھی نہ ہی خالہ پر کیا جائے اور نہ ہی کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ وہ اس کے بر تن کو انڈیل لے بلکہ نکاح کرے۔کیونکہ اس کے لئے وہی ہے جو اللہ نے اس کے لئے لکھ دیا ہے۔اس پیغام نکاح پر پیغام دینے کی ممانعت ہے جو گویا منظور ہو چکا ہو اور اس سودے پر سودے کی پیش کش منع ہے جو طے ہو چکا ہو۔( یہ روایت اس کے علاوہ مسلم میں کتاب النکاح باب تحریم الخطبة على خطبة اخیہ میں متعد دبار مختلف الفاظ کے ساتھ آئی ہے )۔575- عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لا يُبيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا تَلَقَّوْا اليَلَعَ حَتَّى يُبْبَطَ بِهَا إِلَى السُّوقِ (بخاری کتاب البيوع باب النهي عن التلقى الركبان (2165) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے اور تجارتی سامان لانے والوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو، جب تک کہ مال منڈی میں لے جاکر اُتارا نہ جائے۔