حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 445 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 445

445 حضرت عمر بن ابی سلمہ جو رسول اللہ صلی علیکم کے ربیب تھے ، بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں میں رسول اللہ صلی اینیم کے گھر رہتا تھا۔(کھانا کھاتے وقت) میر ا ہاتھ تھالی میں ادھر ادھر گھومتا تھا۔(یعنی بے صبری سے جلد جلد کھاتا اور اپنے آگے کا بھی خیال نہ کرتا )۔رسول اللہ صلی علیم نے (میری اس عادت کو دیکھ کر) فرمایا اولر کے کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھو اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔حضور صلی للی کم کی یہ نصیحت میں ہمیشہ یاد رکھتا ہوں اور اس کے مطابق کھانا کھاتا ہوں۔550- حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عِكْرَاشِ، عَنْ أَبِيهِ عِكْرَاشِ بْنِ ذُوِّيْبٍ قَالَ بَعَثَنِي بَنُو مُرَّةً بْنِ عُبَيْدٍ بِصَدَقَاتِ أَمْوَالِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ المَدِينَةَ فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا بَيْنَ المُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ، قَالَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِى فَانْطَلَقَ بِي إِلَى بَيْتِ أَمْ سَلَمَةَ فَقَالَ هَلْ مِنْ طَعَامٍ ؟ فَأُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالوَذْرٍ، وَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا، فَخَبَطتُ بِيَدِى مِنْ نَوَاحِيهَا وَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، فَقَبَضَ بِيَدِهِ اليُسْرَى عَلَى يَدِى اليُمْنَى ثُمَّ قَالَ يَا عِكْرَاشُ، كُلْ مِنْ مَوْضِعِ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ طَعَامُ وَاحِدٌ ، ثُمَّ أَتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانُ الشَّمْرِ، أَوْ الرُّطَبِ ـ شَكٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ - قَالَ فَجَعَلْتُ أَكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ وَقَالَ يَا عِكْرَاشُ كُلِّ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ أَتِينَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، وَمَسَحَ بِبَلَلِ كَفَيْهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَقَالَ يَا عِكْرَاشُ، هَذَا الوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ (ترمذى كتاب الاطعمة باب ما جاء فى التسمية على الطعام 1848) حضرت عکراش بیان کرتے ہیں کہ بنو مرہ نے اپنے اموال صدقہ دے کر مجھے رسول اللہ صلی کم کی خدمت میں م الله سة بھیجا۔جب میں آیا تو میں نے آپ کو مہاجرین اور انصار کے درمیان رونق افروز دیکھا۔حضور صلی الی یکم نے میر اہا تھ