حدیقۃ الصالحین — Page 443
443 547۔(فَفِي السُّنَنِ لِأَبِي دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَتَى) بِالبِنَاءِ لِلْمَجْهُولِ (النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْنَةِ فى تَبُوكَ مِنْ عَمَلِ النَّصَارَى فَقِيْلَ هَذَا طَعَامٌ تَصْنَعُهُ المَجُوْسُ ( فَدَعَا بِسِكِيْنِ فَسَمَّى وَقَطَعَ ، رَوَاهُ أَبُو دَاؤُدُ) وَ مُسَدَّدُ وَغَيْرُهُمَا۔وَرَوَى الظَّيَالِسِيُّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا فَتَحَ مَكَّةَ رَأَى جُبْنَةٌ فَقَالَ: مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا: طَعَامِ يُصْنَعُ بِأَرْضِ الْعَجَمِ فَقَالُوا: ضَعُوْا فِيْهِ السَّكِينُ وَكُلُوا۔وَرَوَى أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ، عَنْهُ: أَتِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ فِي غَزَاةٍ تَبُوكَ، فَقَالَ: أَيْنَ صُنِعَتْ هَذِهِ ؟ قَالُوا: بِفَارِسَ، وَنَحْنُ نَرَى أَنْ تَجْعَلَ فِيهَا مَيْتَةً، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: أَطْعِمُوا۔وَفِي رِوَايَةٍ : ضَعُوا فِيهَا السَّكِينَ، وَاذْكَرُوا اسْمَ اللهِ تَعَالَى وَكُلُوا (شرح العلامه الزرقاني على المواهب اللدنيه بالمنح المحمديه للعلامه القسطلاني، المجلد السادس الفصل الثالث: فيما تدعو ضرورته اليه من غذائه و ملبسه و منكحه۔۔۔۔النوع الاول في عيشه الله في الماكل و المشارب ،تحت و أما الجبن۔۔۔، صفحہ نمبر 189، 190) رض امام ابو داؤد نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ غزوہ تبوک کے سفر میں نبی صلیالی کم کی خدمت میں عیسائیوں کا بنایا ہوا اپنیر پیش کیا گیا۔اس کے متعلق یہ بھی خیال تھا کہ یہ مجوسیوں کا بنایا ہو ا تھا۔آپ صلی علیہ کم نے ( کسی چھان بین کے بغیر چھری منگوائی اور بسم اللہ پڑھ کر اسے کاٹا اور استعمال فرمایا۔ایک اور روایت میں ہے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر پنیر پیش کیا گیا تو آپ صلی ا ہم نے پو چھا یہ کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا۔اہل حجم اس کو تیار کرتے ہیں۔آپ صلی للی تم نے فرمایا چھری سے کاٹ کر اسے استعمال کر سکتے ہو (یعنی کسی چھان بین کی ضرورت نہیں)۔ایک اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ سنتے ہیں کہ اس کے بنانے میں مردار کی چربی استعمال ہوتی ہے آپ صلی میں کم نے فرما یازیادہ چھان بین کی ضرورت نہیں چھری سے کاٹو اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کھالو۔