حدیقۃ الصالحین — Page 395
395 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی لی کہ ہم میں بے تکلف ہو کر گھل مل جایا کرتے تھے۔بعض اوقات میرے چھوٹے بھائی کو پیار سے فرماتے اے ابو عمیر ! تمہارے نغیر کو کیا ہوا؟ عَن أنس قَالَ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولُ لِأَحْ لِي صَغِيرٍ يا أبا عمير ما فعل النغَيْرُ ؟ كَانَ لَهُ نُغَيْرُ يَلْعَبُ بِهِ فَات (مشكاة كتاب الادب باب المزاح الفصل الاول 4884) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ا ہم ہم میں بے تکلف ہو کر گھل مل جایا کرتے تھے۔بعض اوقات میرے چھوٹے بھائی کو پیار سے فرماتے اے ابو عمیر ! تمہارے تغیر کو کیا ہوا؟ عمیر کے پاس ایک ممولہ تھا جس کے ساتھ وہ کھیلا کرتا تھا اور وہ مر گیا تھا۔472ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا، قَالَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا (ترمذی کتاب البر باب ماجاء في المزاح (1990) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ (کسی بات پر ) لوگوں نے کہا یار سول اللہ ! آپ بھی کبھی کبھی ہم سے مزاح کر لیتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا میں حق کے سوا کچھ اور نہیں کہتا( یعنی میرے مزاح میں خوش مزاجی کے علاوہ حکمت، سچائی، بھلائی بھی ہوتی ہے جس کی طرف متوجہ کرنا مقصد ہوتا ہے )۔473 - عن أبي هريرةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ القوى، خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضّعِيفِ، وَفِي كُلّ خَيْرٌ اخْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ