حدیقۃ الصالحین — Page 394
394 470ـ عن أنسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةٍ عَجُورٍ: إِنَّهُ لَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَجُورٌ فَقَالَتْ: وَمَا لَهُنَّ ؟ وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهَا: أَمَا تَقْرَئِينَ الْقُرْآنَ؟ إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنشَاء فجعلنا هُنَّ أَبْكَارًا (مشكاة كتاب الادب باب المزاح فصل الثاني 4888) الله الله حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الیم نے ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت سے فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی۔وہ عورت قرآن کریم پڑھتی تھی۔گھبر ا کر کہنے لگی۔حضور صلی الی یکم کس وجہ سے نہیں جائیں گی حضور علی ایم نے اس سے فرمایا کیا تو نے قرآن کریم میں نہیں پڑھا ہے۔إِذَا أَنْفَأَتَاهُنَّ إنشاء المعلما هُنَّ أَبْكَارًا کہ ہم نے انہیں (جنت والیوں کو ) نو عمر اور کنواریاں بنایا ( یعنی بوڑھی عورتیں بھی کنواری اور نو عمر بن کر جنت میں جائیں گی )۔471- حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَاحِ ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا، حَتَّى يَقُولَ لأَحْ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ (بخاری کتاب الادب باب الانبساط الى الناس 6129) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ا م ہم میں بے تکلف ہو کر گھل مل جایا کرتے تھے۔بعض اوقات میرے چھوٹے بھائی کو پیار سے فرماتے اے ابو عمیر ! تمہارے نغیر کو کیا ہوا۔(عمیر کے پاس ایک ممولہ تھا جس کے ساتھ وہ کھیلا کرتا تھا اور وہ مر گیا تھا)۔عَنْ أَنَسٍ قَالَ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَقُولُ لاج لي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النَّغَيْرُ (ترمذی کتاب البر والصلة باب ما جاء فى المزاح (1989)