حدیقۃ الصالحین — Page 376
376 وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ قَالَ زَكَرِيَّا : قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ زَادَ قُتَيْبَةُ، قَالَ وَكِيعٌ : انْتِقَاصُ الْمَاءِ: يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ (مسلم کتاب الطهارة باب خصال الفطرة 376) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ دس باتیں فطرت میں سے ہیں مونچھیں تر شوانا، اور داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا ناخن کاٹنا، جوڑ دھونا ، بغل صاف کرتا اور استرہ لینا اور پانی کا کم (یعنی محتاط) استعمال کرنا۔مصعب کہتے ہیں کہ دسویں بات میں بھول گیا ہوں شاید وہ کلی کرنا ہے۔قتیبہ نے مزید کہا کہ وکیع کہتے تھے کہ انتقاص الماء سے مراد استنجاء کرنا ہے۔441ـ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنِ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ۔فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرَ الرَّأْسِ وَاللَّحْيَةِ۔فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ أَنِ اخْرُجُ كَأَنَّهُ يَعْنِي إِصْلَاحَ شَعَرِ رَأْسِهِ وَلِحَيَتِهِ۔فَفَعَلَ الرَّجُلُ، ثُمَّ رَجَعَ۔فَقَالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم : أَلَيْسَ هذَا خَيْراً مِنْ أَنْ يَأْتِي أَحَدُكُمْ ثَائِرِ الرأس كأنه شيطان؟ (موطاء كتاب الشعر باب اصلاح الشعر 1770) حضرت عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علم ایک دن مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص پراگندہ بال اور بکھری داڑھی والا آیا۔رسول اللہ صلی علیم نے اسے اشارہ سے سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ سر کے اور داڑھی کے بال درست کرو۔جب وہ سر کے بال ٹھیک ٹھاک کر کے آیا تو رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا کیا یہ بھلی شکل بہتر ہے یا یہ کہ انسان کے بال اس طرح بکھرے اور پراگندہ ہوں کہ شیطان اور بھوت لگے۔1: البراجم: مفاصل الاصابع او العظام الصغار في اليد والرجل (المنجد) انگلیوں کے جوڑ یا ہاتھ پاؤں کی چھوٹی ہڈیاں۔