حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 361 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 361

361 عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی ال کلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میری عیادت فرمائی۔اس بیماری میں جس میں میں موت کے کنارے پر پہنچ گیا تھا۔میں نے عرض کیا یار سول اللہ ! میری تکلیف جس حد تک پہنچ چکی ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں۔میں مالدار ہوں اور میر اوارث سوائے میری اکلوتی بیٹی کے کوئی نہیں۔کیا میں دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا نہیں۔وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا کیا میں اس کا نصف صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا نہیں۔تیسرا حصہ (کر دو ) اور تیسر احصہ (بھی) بہت ہے۔تمہارا اپنے وارثوں کو اچھی حالت میں چھوڑنا انہیں محتاج چھوڑنے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم اللہ کی رضا چاہتے ہوئے جو بھی خرچ کرو گے تمہیں اس کا اجر دیا جائے گا یہانتک کہ ایک لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو۔وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑا جاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا تم پیچھے چھوڑے نہ جاؤ گے مگر جو نیک عمل کرو گے جس کے ذریعہ تم اللہ کی رضا چاہو تو تم اس کے ذریعہ درجہ اور رفعت میں زیادہ ہو گے۔اور بعید نہیں کہ تم پیچھے چھوڑے جاؤ ( یعنی لمبی عمر دیئے جاؤ) یہانتک کہ قومیں تجھ سے فائدہ اٹھائیں اور کچھ دوسری نقصان اٹھائیں۔اے اللہ ! میرے اصحاب کی ہجرت پوری فرما اور انہیں ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹانا لیکن بے چارہ سعد بن خولہ اراوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے ان کے لئے دکھ کا اظہار فرمایا کیونکہ وہ (ہجرت کے بعد ) مکہ میں فوت ہو گئے تھے۔411- عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اليَدُ العُلْيَا خَيْرٌ مِنَ اليَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأُ بِمَنْ تَعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنِّي، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ (بخاری کتاب الزكاة باب لا صدقة الا عن ظهر غنى 1427)