حدیقۃ الصالحین — Page 360
360 کوئی میر اوارث نہیں۔کیا میں دو تہائی مال صدقہ کر دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔میں نے کہا تو آدھا؟ آپ نے فرمایا نہیں۔پھر آپ نے فرمایا تہائی بلکہ تہائی بھی بڑا ہے یا فرمایا بہت ہے اور یہ کہ تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو، بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو محتاج چھوڑ جاؤ، لوگوں کے سامنے وہ ہاتھ پھیلاتے پھریں اور جو تم ایسا خرچ کرو گے کہ جس سے اللہ کی رضامندی چاہتے ہو تو ضرور ہی اس پر تمہیں ثواب دیا جائے گا۔یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔میں نے کہا یارسول اللہ ! میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے (مکہ میں) رہ جاؤں گا۔آپ نے فرمایا تم کبھی پیچھے نہیں رہو گے۔جو نیک کام بھی کرو گے ، تم اس کے ذریعہ سے درجہ اور بلندی میں بڑھو گے۔مزید بر آں امید ہے کہ تم پیچھے رکھے جاؤ گے تا تمہارے ذریعہ بہت سی قومیں نفع حاصل کریں اور بعض کو تمہارے ذریعہ نقصان پہنچے۔اے میرے اللہ ! میرے ساتھیوں کے لئے ان کی ہجرت پوری کر اور ان کو ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹائیو۔لیکن بیچارے سعد بن خولہ ان کے لئے رسول اللہ صلی اللہ یکم افسوس ہی کیا کرتے تھے کہ وہ مکہ میں فوت ہو گئے۔عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَادَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعِ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَلَغَنِي مَا تَرَى مِنَ الْوَجَعِ، وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةُ لِي وَاحِدَةٌ ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِخُلُقَى مَالِي ؟ قَالَ لَا، قَالَ قُلْتُ: أَفَأَتَصَدَّقُ بِشَطْرِهِ؟ قَالَ لَا، القُلتُ، وَالقُلْتُ كَثِيرُ ، إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَفُونَ النَّاسَ، وَلَسْتَ تُنْفِقُ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ، إِلَّا أَجِرْتَ بِهَا، حَتَّى اللُّقْمَةُ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ، قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي، قَالَ إِنَّكَ لَن تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يُنْفَعَ بِكَ أَقْوَامٌ ، وَيُضَرِّ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِن الْبَائِسُ سَعْدُ بن خَوْلَهُ ، قَالَ رَقَى لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَن تُونِي بِمَكَّة (مسلم کتاب الوصية باب الوصية بالثلث 3062)