حدیقۃ الصالحین — Page 359
359 حضرت ابوہریر کا بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا یارسول صلی علیہ کم اللہ ! میرے ایسے قرابت دار ہیں کہ میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع تعلقی کرتے ہیں میں ان سے اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بر اسلوک کرتے ہیں۔میں ان سے حلم سے پیش آتا ہوں وہ مجھ سے جہالت سے پیش آتے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا اگر تم ویسے ہی ہو جیسا کہ تم کہتے ہو۔تو تم گویا ان پر گرم راکھ ڈالتے ہو۔جب تک تم اس حال پر رہے اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ ان کے مقابل پر ایک مدد گار رہے گا۔410- عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَبَّةِ الوَدَاعِ مِنْ وَجَعِ اشْتَدَّ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِخُلُقَى مَالِي ؟ قَالَ لَا فَقُلْتُ: بِالشَّطْرِ ؟ فَقَالَ لَا ثُمَّ قَالَ القُلتُ وَالقُلتُ كَبِيرُ - أَوْ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةٌ يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَن تُنْفِقَ نَفَقَةٌ تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي ؟ قَالَ إِنَّكَ لَن تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةٌ وَرِفْعَةً، ثُمَّ لَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ ، وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ البَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ يَرْ فِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أن مات بمكة الله و (بخاری کتاب الجنائز باب رثاء النبي العالم سعد ابن خوله 1295) عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے باپ (حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا رسول اللہ صلی ال یکم جس سال حجتہ الوداع ہوا، میری بیمار پرسی کے لئے آیا کرتے تھے۔کیونکہ میری بیماری بڑھ گئی تھی۔میں نے کہا میری بیماری آخری حد تک پہنچ گئی ہے اور میں مالدار ہوں اور سوائے (میری) ایک لڑکی کے اور