حدیقۃ الصالحین — Page 18
18 اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ صحابہ کے بعد احادیث کی مشہور کتابوں کی تدوین تک راویوں کے کل گیارہ طبقات متعین ہوئے تھے۔جن میں سے تابعین کے پانچ طبقات ، تبع تابعین کے تین طبقات اور تبع تبع تابعین کے تین طبقات ہیں۔کتابوں کی تدوین کے دور سے پہلے روایات حدیث کا زیادہ تر دار و مدار حفظ اور زبانی روایت پر تھا۔100ء تک طبقہ اولیٰ کے تمام راوی وفات پاچکے تھے۔1200 تک طبقہ ثانیہ سے ساتویں طبقہ کے تمام راوی وفات پاگئے تھے۔200 کے بعد آٹھویں طبقہ سے گیارہویں طبقہ کا دور ہے جس میں مشہور کتب حدیث کی تدوین ہوئی جیسے مسند احمد بن حنبل، صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ۔جماعت احمدیہ کے نزدیک سنت اور حدیث کا مقام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کیلئے تین چیزیں ہیں (۱) قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جس سے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں۔وہ خدا کا کلام ہے وہ شک اور ظن کی آلائشوں سے پاک ہے۔(۲) دوسری سنت۔۔سنت سے مُراد۔آنحضرت کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تو اتر رکھتی ہے اور ابتدا سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا قول ہے اور عنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور قدیم سے عادۃ اللہ یہی ہے کہ جب انبیاء علیہم السلام خدا کا قول لوگوں کی ہدایت کیلئے لاتے ہیں تو اپنے فعل سے یعنی عملی طور پر اس قول کی تفسیر کر دیتے ہیں تا اس قول کا سمجھنا لوگوں پر مشتبہ نہ رہے اور اس قول پر آپ بھی