حدیقۃ الصالحین — Page 297
297 عبد الواحد بن ایمن اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری) رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔انہوں نے کہا ہم خندق کے دن زمین کھود رہے تھے کہ ایک سخت پتھر سامنے آگیا۔پس وہ نبی صلی الیہ کلیم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ خندق میں ایک پتھر آگیا ہے۔آپ نے فرمایا میں اتر تاہوں۔آپ کھڑے ہو گئے اور آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا اور تین دن سے ہم نے کچھ بھی نہیں چکھا تھا۔نبی صلی الی یم نے کدال لی اور اس سے پتھر پر ضربیں لگائیں تو وہ بھر بھرا، یا کہا کہ پھسلتی ہوئی ریت کا ڈھیر ہو گیا۔میں نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے گھر تک جانے کی اجازت دیجئے۔میں نے جاکر اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک بات محسوس کی ہے جس پر صبر نہیں ہو سکتا۔کیا تمہارے پاس کچھ (خوراک) ہے ؟ کہنے لگی: کچھ جو اور بکری کا چھوٹا بچہ ہے۔میں نے اس بچے کو ذبح کیا اور اس نے جو پیسے اور ہم نے پتھر کی ہانڈی میں گوشت ڈال دیا۔پھر میں نبی صلی علی نیم کے پاس آیا اور آٹا خمیر ہو چکا تھا اور ہانڈی چولہے پر پکنے کے قریب تھی۔میں نے کہا یا رسول اللہ !) میرے پاس کچھ کھانا ہے۔یارسول اللہ ! آپ اُٹھیں اور ایک یا دو آدمی ساتھ لے لیں۔آپ نے پوچھا: کھانا کتنا ہے ؟ میں نے آپ سے بیان کیا۔آپ نے فرمایا بہت ہے اور اچھا ہے۔پھر آپ نے فرمایا اپنی بیوی سے کہو ہانڈی نہ اُتارے اور نہ روٹی تنور سے نکالے جب تک کہ میں نہ آجاؤں۔پھر آپ نے صحابہ سے کہا اُٹھو۔چنانچہ مہاجرین اور انصار کھڑے ہو گئے۔جب حضرت جابر اپنی بیوی کے پاس گئے، کہنے لگے: تمہارا بھلا ہوائی ملی اعلام مہاجرین اور انصار اور جو ان کے ساتھ ہیں سب کو لے کر آگئے ہیں۔ان کی بیوی نے کہا کیا آنحضرت صلی اللہ ہم نے تم سے کچھ پوچھا تھا؟ میں نے کہا ہاں۔پھر آپ نے (صحابہ سے فرمایا اندر چلو اور کشمکش نہ کرو۔آپ روٹیوں کے ٹکڑے کر کے ان پر گوشت ڈال کر صحابہ کو دینے لگے اور جب ہانڈی اور تنور سے کچھ لیتے تو اسے ڈھانپ دیتے۔اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ صحابہ سیر ہو گئے اور کچھ کھانا بچ بھی رہا۔آپ نے (حضرت جابر کی بیوی سے) فرمایا لو اب یہ کھالو اور ہدیہ بھیجو کیونکہ لوگوں کو بھوک کا سامنا تھا۔سة