حدیقۃ الصالحین — Page 289
289 إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ، فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُةِ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ اللهُمَّ ، مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمُهُمْ، وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ (مسلم کتاب الجهاد باب كراهية تمنى لقاء العدو والامر بالصبر عند اللقاء 3262) ย ابو نضر نے بنی اسلم کے ایک شخص، جو نبی صلی اللہ نام کے صحابہ میں سے تھے جنہیں حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کہا جاتا تھا، کے خط کے بارہ میں بیان کیا کہ انہوں نے عمر بن عبید اللہ کو خط لکھا جب وہ حروریہ کے مقابلہ میں روانہ ہوئے کہ رسول اللہ صلی ا یکم جس دن دشمن سے بر سر پیکار ہوتے تو آپ انتظار فرماتے یہانتک کہ جب سورج ڈھل جاتا تو آپ ان میں کھڑے ہوتے اور فرماتے اے لوگو! دشمن سے مڈھ بھیڑ کی تمنانہ کرو اور جب تمہاری مڈھ بھیڑ ہو تو صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔تھوڑی دیر کے بعد رسول اللہ صلی این کلم پھر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اللہ ! کتاب کو نازل فرمانے والے اور بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے ! انہیں شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔313- عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا، قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ (ابوداؤد کتاب الصلاة ، تفريع ابواب الوتر، باب ما يقول الرجل اذا خاف قوما 1537) ابو بردہ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی ای کمر کو کسی قوم کی طرف سے خطرہ محسوس ہو تا تو آپ کہتے اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ ”اے اللہ ! ہم تجھے ان کے مقابل میں رکھتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں“۔