حدیقۃ الصالحین — Page 288
288 حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرما یا غزوہ اور جہاد میں دو طرح کے انسان شامل ہوتے ہیں۔ایک وہ شخص جو خدا کی رضا کے لئے جہاد کرتا ہے امام کی اطاعت کرتا ہے اپنا عمد ومال خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔اپنے ساتھی کے ساتھ نرم سلوک کرتا ہے اور فتنہ و فساد سے بچا رہتا ہے ایسے شخص کو سونے اور جاگنے سب حالات میں ثواب ملتا ہے۔دوسر اوہ شخص ہے جو فخر اور نام و نمود کے لئے جہاد میں شامل ہوتا ہے۔امام کی نافرمانی کرتا اور زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتا ہے۔ایسا شخص بے نصیب اور نامراد ہے کچھ بھی حاصل نہ کر پائے گا۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْغَزْرُ غَزْوَانِ: فَأَمَّا مَنْ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ، وَأَطَاعَ الْإِمَامَ ، وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ، وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنَبْهَهُ أَجْرُ كُلُّهُ، وَأَمَّا مَنْ غَرًا فَخَرَا وَرِيَاءً وَسُمْعَةً ، وَعَصَى الْإِمَامَ ، وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَرْجِعْ بِالْكَفَافِ (ابو داؤد کتاب الجهاد باب في من يغزو ويلتمس الدنيا 2515) حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا غزوہ دو قسم کے ہوتے ہیں، جو اللہ کی رضا چاہے اور امام کی اطاعت کرے اور اپنا اچھا مال خرچ کرے اور اپنے ساتھی کو آسانی پہنچائے اور فساد سے بچے تو اس کی نیند اور اس کا جاگناسب (باعث) ثواب ہے اور جو کوئی فخر اور ریا اور شہرت کیلئے غزوہ کرے اور امام کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد تو وہ کام کے ) برابر (ثواب) لے کر بھی نہ لوٹا تھا۔312۔عن ابى النضر عَنْ كِتَابِ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللهِ بْن أَبي أَوْلَى، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْن عُبَيْدِ اللهِ حِينَ سَادَ إِلَى الْحَرُورِيةِ، يُغيرُهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِي فِيهَا الْعَدُقِّ، يَنْتَظِرُ حَتَّى