حدیقۃ الصالحین — Page 287
287 حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کو سازوسامان سے تیار کیا تو گویا خود ہی جنگ کے لئے نکلا اور جس شخص نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کی اچھی جانشینی کی تو گویا وہ خود بھی جنگ کے لئے نکلا۔311۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ قَالَ الْغَزْوُ غَزْوَانِ: فَغَزُو تُنْفَقُ فِيهِ الْكَرِيمَةُ، وَيُيَاسَرُ فِيهِ الشّرِيكُ، وَيُطَاعُ فِيهِ ذُو الْأَمْرِ ، وَيُجْتَنَبُ فِيهِ الْفَسَادُ، فَذلِكَ الْغَزُو خَيْرٌ كُلُّهُ وَغَزُو لَا تُنْفَقُ فِيهِ الْكَرِيمَةُ، وَلَا يُيَاسَرُ فِيهِ الشَّرِيكُ، وَلَا يُطَاعُ فِيهِ ذُو الْأَمْرِ، وَلَا يُجْتَنَبُ فِيهِ الْفَسَادُ، قديكَ الْقَوْمُ لَا يَرْجِعُ صَاحِبُهُ كَفَافاً (موطا امام مالک کتاب الجهاد باب الترغيب في الجهاد 1015) حضرت معاذ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی علیم نے فرمایا غزوہ اور جہاد میں دو طرح کے انسان شامل ہوتے ہیں۔ایک وہ شخص جو خدا کی رضا کے لئے جہاد کرتا ہے امام کی اطاعت کرتا ہے اپنا عمدہ مال خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔اپنے ساتھی کے ساتھ نرم سلوک کرتا ہے اور فتنہ و فساد سے بچارہتا ہے ایسے شخص کو سونے اور جاگنے سب حالات میں ثواب ملتا ہے۔دوسر اوہ شخص ہے جو فخر اور نام و نمود کے لئے جہاد میں شامل ہو تا ہے۔امام کی نافرمانی کر تا اور زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتا ہے۔ایسا شخص بے نصیب اور نامراد ہے کچھ بھی حاصل نہ کر پائے گا۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضى اللهُ عَنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَزْمُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنْ ابْتِغَى وَجْهَ اللَّهِ ، وَأَطَاعَ الإِمَامَ ، وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ ، فَإِنَّ نَوْمَهُ وتنبهه أَجْرٌ كُلُّهُ وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخَرًّا وَرِيَاءٌ وَسُمْعَةٌ ، وَعَصَى الإمام وأفسد في الأَرْضِ ، فَإِنَّهُ لَن يَرْجِعَ بِالْكَفَافِ (الترغيب والترهيب للمنذرى ، كتاب الجهاد ، الترغيب فى اخلاص النية فى الجهاد وما جاء فيمن يريد الاجر۔۔۔1948)