حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 286 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 286

286 کچھ میرے پاس تھا وہ سب لے آیا ہوں اور بال بچوں کے لئے اللہ اور اس کا رسول چھوڑ آیا ہوں۔(یعنی خدا تعالیٰ پر توکل ہے)۔(حضرت عمرؓ کہنے لگے یہ سن کر) میں نے (اپنے آپ سے کہا) کہ میں ابو بکر سے کبھی بھی نہیں بڑھ سکتا۔309- عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ، صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صُنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنْبِلَهُ۔وَارْمُوا، وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَى مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا لَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلَّا ثَلَاثٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتُهُ أَهْلَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّفْيَ بَعْدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ تَرَكَهَا ، أَوْ قَالَ كَفَرَهَا (ابو داؤد کتاب الجهاد باب في الرمي 2513) رض حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی نیلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعہ تین آدمیوں کو جنت میں داخل کریگا۔اس کا بنانے والا جس کی اس کے بنانے میں نیکی کی نیت ہو اور اسے چلانے والا اور پکڑانے والا۔پس تیر چلاؤ اور گھڑ سواری کرو۔اور اگر تم تیر اندازی کرو تو یہ تمہاری گھڑ سواری سے مجھے زیادہ پسند ہے۔مشغلے تین ہی ہیں ، اپنے گھوڑے کو سکھانا اور اپنی بیوی سے کھیلنا اور اپنے کمان سے اور تیر سے تیر اندازی کرنا۔اور جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے چھوڑ دی تو یہ ایک نعمت ہے جسے اُسنے چھوڑا ہے یا فرمایا اس نے اس کی ناشکری کی ہے۔310- حَدَّثني زيد بن خَالِدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَهَزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيَّا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَ (بخاری کتاب الجهاد و السير باب فضل من جهز غازيا او خلفه بخير (2843)