حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 16 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 16

16 حاصل کیا۔امام مالک نے موطاء میں کل 1720 روایات شامل کی ہیں۔تابعی سے مرادوہ مسلمان ہے جس نے حالت اسلام میں کسی صحابی کو دیکھا اور اس سے ملا اور شرف تلمذ تبع تابعی سے مراد وہ مسلمان ہے جس نے حالت اسلام میں کسی تابعی کو دیکھا اس سے ملا اور شرفِ تلمذ سے سر فراز ہوا۔دور صحابہ کے بعد احادیث کی روایات میں یہ الجھن پیدا ہوئی کہ اس دور میں مختلف مذہبی اور سیاسی اختلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہر طبقہ اپنے اپنے مسلک کی تائید میں روایات بیان کرنے لگا جس کی وجہ سے روایات کا اعتبار مجروح ہونے لگا۔اس وجہ سے علماء حدیث نے تابعین اور بعد کے راویوں کی چھان بین ضروری سمجھی اور ان کے حالات اور ان کی سیرت ، خاص طور پر ان کے حفظ ، ان کے صدق اور دیانت کے بارہ میں بڑے جامع اور مانع نوٹ لکھے اور اس طرح ” اسماء الرجال“ کے فن کی بنیاد پڑی۔اسی ضمن میں تابعین اور تبع تابعین وغیرہ کے طبقات کی بھی تعیین ہوئی تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ کسی روایت نے کب اور کس طبقہ میں زیادہ شہرت پائی مثلاً اگر ایک روایت تابعین کے ہر طبقہ میں مشہور اور متد اول رہی ہو تو اس کا اعتبار زیادہ ہو گا بہ نسبت اس روایت کے جس کو بہت بعد کے طبقہ میں شہرت ملی گویا پہلے طبقات کے تابعی وغیرہ بظاہر اس روایت سے واقف نہ تھے۔اس سے یہ شبہ قوی ہو سکتا ہے کہ اگر یہ روایت بالکل صحیح ہے تو پہلے طبقات کی اکثریت کو اس کا علم کیوں نہ ہوا۔حالانکہ روایت کے الفاظ کا انداز ایسا ہے جس سے طبعاً یہ خیال تقویت پاتا ہے کہ اس کا علم عام ہونا چاہیے تھا مثلاً بسرہ کی روایت کہ شرمگاہ کو ہاتھ لگ جائے تو وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔اب اس مسئلہ اور صورت کا تعلق عموم بلوی یعنی ہر ایک سے ہے اگر یہ حضور کا فرمان تھا تو اکثر صحابہ کو اس کا علم ہونا چاہیے تھا جبکہ صور تحال یہ ہے کہ صرف ایک عورت یہ روایت بیان کرتی ہے اور کوئی مرد صحابی اس روایت کا راوی نہیں ہے۔تابعین اور تبع تابعین وغیرہ کے طبقات میں تو اس قسم کے نقص کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ عرصہ زیادہ ہو جانے کی وجہ سے بات بھول بھی سکتی ہے۔طبقاتی تعصب کی وجہ سے یہ بات گھڑی بھی جاسکتی ย