حدیقۃ الصالحین — Page 285
285 كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ، وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ بَا كَانَ أَوْ فَاجِرًا، وَإِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ (ابو داؤد کتاب الجهاد باب فى الغزو مع ائمة الجور 2533) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا جہاد تم پر واجب ہے، ہر امیر کے ساتھ شامل ہو کر ، چاہے وہ نیک ہو یا ہد۔اور نماز تم پر فرض ہے ہر مسلمان کے پیچھے ، نیک ہو یا بد ، اگر چہ وہ گناہ کبیرہ کرے۔اور نماز ( جنازہ) تم پر فرض ہے ہر مسلمان کی چاہے وہ نیک ہو یابد اور اگر چہ اس نے گناہ کبیر ہ کیا ہو۔308- عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الخَطَابِ، يَقُولُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا، فَقُلْتُ: اليَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا، قَالَ فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ: وَسَلَّمَ: مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟ قال (أبقَيْتَ لَهُم قالَ ما أَبْقَيْت لَهُم ) فقُلْتُ: مِثْلَهُ، وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ ؟ قَالَ أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قُلْتُ: وَ اللَّهِ لَا أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا (ترمذی کتاب المناقب باب مناقب ابی بکر صدیق 3675) رض حضرت عمر بن خطاب بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ال یکم نے (ہمیں ایک جنگی ضرورت کے لئے خدا کی راہ میں) مال خرچ کرنے کی تحریک فرمائی۔ان دنوں میرے پاس کافی مال تھا۔میں نے اپنے دل میں کہا اگر میں ابو بکر سے آگے بڑھ سکتا ہوں تو آج موقعہ ہے۔میں اپنا مال لے کر آیا۔رسول اللہ صلی ا یکم نے دریافت فرمایا (عمر! کتنا مال لائے ہو اور کس قدر بال بچوں کے لئے چھوڑ آئے ہو ، میں نے عرض کیا حضور ! آدھا مال لایا ہوں اور آدھا چھوڑ آیا ہوں۔اور حضرت ابو بکر جو کچھ ان کے پاس تھا وہ سب لے کر آگئے۔حضور علیہ السلام نے ابو بکر سے دریافت فرمایا ابو بکر ! اپنے گھر کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے ؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا ( حضور ! جو