حدیقۃ الصالحین — Page 14
14 حضرت امام مالک : مالک بن انس نام ہے۔193 میں پیدا ہوئے 129ء میں وفات پائی۔مدینہ منورہ ہے۔کے رہنے والے تھے۔علم حدیث میں ان کا مرتبہ امام المحدثین کا ہے تمام عالی مقام محد ثین کے شیخ اعلیٰ تھے۔سب علماء آپ کی جلالت شان کے معترف تھے اور آپکی عظمت علمی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے تھے۔”عالم مدینۃ الرسول“ کا معزز لقب پایا۔زہد و توکل میں اپنی مثال آپ تھے۔آپکی مرتب کر وہ تصنیف کا نام ” مؤطا امام مالک ہے۔جسے کتب حدیث میں اولیت کا شرف حاصل ہوا۔یہاں تک کہ امام بخاری اور امام مسلم نے اس کتاب کی حدیثوں کو اپنی صحیحین میں جگہ دی۔ایک ضروری تشریح ا محمد ثین کی اصطلاح میں آنحضرت علی ایم کے ارشاد کو حدیث قولی آپ کے عمل کو حدیث فعلی اور آپ کے صحابی کے کسی ایسے فعل یا قول کو جسے آپ کی تائید حاصل ہو حدیث تقریری کہتے ہیں۔صحابی سے مراد وہ خوش قسمت مسلمان ہے جسے آنحضرت صلی علیم کی زیارت نصیب ہوئی۔آپ پر ایمان لایا اور ملاقات کا شرف حاصل کیا۔کہا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی ا یکم کی وفات تک کے وقت صحابہ کی کل تعداد ایک لاکھ چو میں ہزار انتھی۔ان صحابہ کو درجہ، سبقت، قربانی اور ذمہ داری کے لحاظ سے مختلف طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے۔مثلاً 1۔وہ صحابہ جو بالکل ابتداء میں اسلام لائے جیسے حضرت خدیجہ، حضرت ابو بکر، حضرت علی و غیر هم 2۔وہ صحابہ جو دار الندوہ میں شامل ہوتے تھے۔1 والاكثر على ان الصحابي هو كل من اسلم و رأى النبی ﷺ وصحبه و لو أقل زمان و كان عددهم عند وفاته مائة الف و أربعة وعشرين ألفا (الاسلام و الحضارة العربیہ (حاشیه) باب ثروة العرب و علومهم صفحه 142، مصنفه محمد كرد على بحواله تاریخ ابوالفداء)