حدیقۃ الصالحین — Page 233
233 قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِ ؟ قَالَ قَالُوا اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ فَإِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ، قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللهَ قَد حَرَّم عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ (مسلم کتاب المساجد باب الرخصة فى التخلف عن الجماعة بعذر 1044) الله سة حضرت عتبان بن مالک جو نبی صلی الی یوم کے انصار صحابہ میں سے تھے جو (غزوہ) بدر میں شریک ہوئے تھے رسول اللہ صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یار سول ملی لی نام اللہ ! میری بینائی کمزور ہو گئی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں۔جب بارشیں ہوتی ہیں تو وہ وادی جو میرے اور ان کے درمیان ہے بہہ پڑتی ہے اور میں ان کی مسجد میں جاکر انہیں نماز نہیں پڑھا سکتا۔یارسول صلی علی کرم اللہ ! میری خواہش ہے کہ آپ تشریف لائیں اور (کسی جگہ ) نماز پڑھیں جسے میں نماز پڑھنے کی جگہ بنالوں۔وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا کہ انشاء اللہ میں ضرور ایسا کروں گا۔حضرت عتبان کہتے ہیں اگلی صبح جب دن چڑھا تو رسول اللہ صلی لی کمر اور حضرت ابو بکر صدیق تشریف لائے رسول اللہ صلی علیم نے اجازت چاہی۔میں نے اجازت دی۔جب آپ (گھر میں آئے تو) بیٹھے نہیں یہانتک کہ اندر تشریف لے آئے۔فرمایا کہ تم اپنے گھر میں کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے گھر کے ایک کونہ کی طرف اشارہ کیا۔رسول اللہ صلی للی کم کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور ہم بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔آپ نے دور کعتیں پڑھیں اور سلام پھیرا۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے آپ کو خنزیر کے لئے روک لیا جو ہم نے آپ کے لئے تیار کیا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ محلہ کے بعض اور افراد بھی ہمارے ارد گرد سے آگئے۔یہانتک کہ گھر میں آدمیوں کی خاصی تعداد جمع ہو گئی۔اُن میں سے کسی نے کہا مالک بن د خشن کہاں ہے ؟ ایک نے کہا کہ وہ تو منافق ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی علیم سے محبت نہیں کرتا۔رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ تم اس کے بارہ میں یہ مت کہو۔کیا تمہیں پتہ نہیں کہ اس نے اللہ کی رضا چاہتے ہوئے لا اله الا اللہ کا اقرار کیا ہے۔وہ کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی یہ کم بہتر جانتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے کہا کہ