حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 220 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 220

220 يَسْتَوِيَ قَائِمًا ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدُ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا ، قَالَتْ وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَكَانَ يَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ، وَكَانَ يَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ أَحَدُنَا ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَسْلِيم قَالَ يَحْيَى وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ (مسند احمد بن حنبل ، الملحق المستدرك من مسند الانصار بقية خامس عشر ، مسند الصديقه عائشه ، 24531) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ال یوم تکبیر ( یعنی اللہ اکبر) کہہ کر نماز شروع کرتے ، اس کے بعد سورۃ فاتحہ پڑھتے۔جب رکوع کرتے تو نہ سر کو اوپر اٹھا کر رکھتے نہ جھکاتے بلکہ پیٹھ کے برابر اور ہموار رکھتے اور جب رکوع سے اٹھتے تو سیدھے کھڑے ہو کر پھر سجدہ میں جاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو پوری طرح بیٹھنے کے بعد دوسر اسجدہ کرتے۔اور ہر دور کعتوں کے بعد تشہد کے لئے بیٹھتے، اپنا دایاں پاؤں کھڑا ر کھتے اور بایاں بچھا دیتے اور اس طرح بیٹھ کر تشہد پڑھتے۔اور شیطان کی طرح بیٹھنے (یعنی ایڑیوں پر بیٹھنے ) سے منع فرماتے اور سجدہ میں بازو بچھانے سے منع فرماتے جس طرح کہ کتا اپنے بازو بچھا کر بیٹھتا ہے۔آخر میں صلى الميم السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہہ کر نماز ختم کرتے۔209- حَدَّثَنَا مَالِكٌ، أَتَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِبًا رَفِيقًا، فَلَهَا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلَنَا - أَوْ قَدِ اشْتَقْنَا - سَأَلَنَا عَمَن تَرَكْنَا بَعْدَنَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، قَالَ ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ - وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا أَوْ لَا أَحْفَظُهَا - وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أَصْلِي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْيُوَذِنَ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَليَؤمكُمْ أكبرُكُمْ - (بخاری کتاب الاذان باب الاذان للمسافر اذا كانوا جماعة، 631)