حدیقۃ الصالحین — Page 219
219 حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں۔اور وہ انصار میں سے تھے کہ نبی صلی این کلم کے پاس جبریل آئے اور کہا اٹھیے نماز پڑھیں۔چنانچہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ سورج ڈھلنے لگا۔پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا۔پھر سورج غروب ہونے پر مغرب کی نماز پڑھی۔پھر عشاء کی نماز شفق یعنی سفیدی کے غائب ہونے کے بعد پڑھی پھر طلوع فجر کے بعد صبح کی نماز پڑھی۔اس کے بعد دوسرے دن پھر جبرئیل آئے اور ان کے بتانے پر آپ صلی للی یکم نے ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا تھا۔پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس سے دو گنا ہو گیا تھا اور مغرب کی نماز کل والے وقت پر ہی پڑھی۔پھر عشاء کی نماز آدھی رات یا تیسر ا حصہ رات گزرنے پر پڑھی اور صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھی جبکہ روشنی پوری طرح پھیل چکی تھی۔اس کے بعد حضرت جبرئیل نے کہا ہر نماز کا افضل اور بہترین وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان کا ہے۔207 عن عليّ، عَنِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مِفْتَاحُ الصَّلاةِ الظُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ (ترمذی کتاب الطهارة باب ما جاء ان مفتاح الصلاة الطهور ، 3) حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ال کلم نے فرمایا نماز کی کلید طہارت ہے۔نماز کی تحریم تکبیر ہے۔نماز کی تحلیل تسلیم ہے۔( یعنی اللہ اکبر کہنے کے بعد نماز کے علاوہ کوئی اور بات یا کام کرنا منع ہو جاتا ہے اور سلام کے بعد وہ تمام کام جو نماز میں منع تھے جائز ہو جاتے ہیں)۔208ـ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ، وَالْقِرَاءَةِ بِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ، وَقَالَ يَحْيَى يُشْخِصُ رأْسَهُ، وَلَمْ يُصَوْبُهُ، وَلَكِن بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكُوعِ، لَمْ يَسْجُدُ حَتَّى