حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 204 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 204

204 نبی صلی الیم سے کیا تور سول اللہ صلی علیم نے فرمایا کیا اس نے لا الہ الا اللہ کہا اور تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ تو اس نے ہتھیار کے ڈر سے کہا تھا۔فرمایا تو تم نے کیوں اس کا دل نہ چیر اتا کہ تم جان لیتے کہ اس نے یہ ( دل سے) کہا تھا یا نہیں۔آپ میرے سامنے یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے یہ خواہش کی کہ کاش میں نے اس دن ہی اسلام قبول کیا ہوتا۔182- حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْن عَدِي، حَدَّثَهُ أَنَّ المِقْدَادَ بْن عَمْرٍو الكِنْدِيَّ، حَلِيفٌ بَنِي زُهْرَةَ، حَدَّثَهُ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لَقِيتُ كَافِرًا فَاقْتَتَلْنَا، فَضَرَبَ يَدِى بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لَاذَ بِشَجَرَةٍ، وَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، اقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلُهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنَّهُ طَرَحَ إِحْدَى يَدَيَّ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا، أَقْتُلُهُ؟ قَالَ لَا تَقْتُلُهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ (بخاری کتاب الديات ، باب قول الله تعالى و من يقتل مو منا متعمداً۔۔۔۔حدیث نمبر (6865) حضرت عبید اللہ بن عدی بیان کرتے ہیں کہ مقداد بن عمر و کندی جو جنگ بدر میں شامل ہوئے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے کہا یار سول اللہ ! اگر کسی کافر سے میری مڈ بھیڑ ہو جائے اور وہ تلوار سے میر اہاتھ کاٹ ڈالے پھر اپنے بچاؤ کی خاطر درخت کی اوٹ میں ہو جائے اور کہے کہ میں خدا پر ایمان لاتا ہوں تو کیا میں اسے اس کے یہ کہنے کے بعد قتل کر سکتا ہوں؟ رسول اللہ صلی اﷺ نے فرمایا نہیں تم اسے قتل نہیں کر سکتے۔مقداد نے عرض کیا یارسول اللہ ! اس نے تو میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالا ہے پھر اپنی جان بچانے کی خاطر یہ کہہ رہا ہے تو کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا نہیں جب وہ ایمان کا اقرار کرتا ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔اگر تم اس اقرار کے بعد اسے قتل کرو گے تو تم اس مقام پر ہو گے جس پر وہ تھا۔یعنی وہ مومن اور تم کا فر قرار پاؤ گے۔