حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 203 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 203

203 مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ قُلْتُ كَانَ مُتَعَوَذًا فَمَا زَالَ يُكَررُهَا ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ اليَوْمِ الله دل (بخاری کتاب المغازی باب بعث النبي صل اسامة بن زيد الى الحرقات من جهينة 4269) حضرت اسامہ بن زید بان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا۔ہم نے صبح سویرے اس قوم پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی اور میں نے اور ایک انصاری مردنے ان میں سے ایک شخص کا پیچھا کیا۔جب ہم نے اس کو گھیر لیا تو وہ الہ الا اللہ کہنے لگا۔(یہ سن کر ) انصاری تورک گیا اور میں نے اپنے نیزہ سے اس کو زخمی کیا اور مار ڈالا۔جب ہم آئے تو نبی صلی الیہ کم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا اے اسامہ ! کیا تم نے اسے مار ڈالا بعد اس کے کہ اس نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کیا۔میں نے کہا وہ اپنا بچاؤ کر رہا تھا۔مگر آپ وہی بات دہراتے رہے۔یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ کاش میں اس دن سے پہلے مسلمان نہ ہو اہو تا۔الله عَنْ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ - وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَصَبَحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَأَدْرَكْتُ رَجُلًا فَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَطَعَنْتُهُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ ، فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَقَتَلْتَهُ ؟ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السَّلَاحِ، قَالَ أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا؟ فَمَا زَالَ يُكَرِرُهَا عَلَى حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ (مسلم کتاب الایمان باب تحريم قتل الكافر بعد ان قال لا اله الا الله 132) حضرت اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیکم نے ہمیں ایک مہم پر بھیجا۔صبح کے وقت ہم جہینہ کے حرقات ( جہینہ قبیلہ کے علاقہ میں ایک موضع کا نام ہے) میں پہنچے۔وہاں ایک شخص کو میں نے جالیا، اس نے کہا "لا اله الا اللہ“ مگر میں نے اسے نیزہ مارا، پھر اس سے میرے دل میں خلش پیدا ہوئی تو میں نے اس کا ذکر 6