حدیقۃ الصالحین — Page 197
197 اپنے مالک کو جنے گی اور تم دیکھو گے کہ جگے پاؤں، جنگے بدن، محتاج اور بکریاں چرانے والے بلند و بالا عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔انہوں نے کہا پھر وہ چلا گیا۔میں کچھ دیر وہاں رہا تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے عمر ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ پوچھنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول صلی اینم زیادہ جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے تمہارے پاس آئے تھے۔172- عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُنِيَ الإِسْلامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وإيتاء الزَّكَاةِ، وَالحَج وَصَوْمِ رَمَضَانَ (بخاری کتاب الایمان باب دعائكم ایمانکم 8) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے۔یہ اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد (صلی للی نم) اللہ کے رسول ہیں اور نماز کو سنوار کر ادا کرنا اور زکوۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔173 ـ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْن عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ الله صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ قَائِرُ الرَّأْسِ، نَسْمَعُ دَوِيٌّ صَوْتِهِ، وَلَا تَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ ، وَاللَّيْلَةِ فَقَالَ هَلْ عَلَى غَيْرُهُنَّ ؟ قَالَ لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ، وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ هَلْ عَلَى غَيْرُهُ ؟ فَقَالَ لَا ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ، وَذَكَرَ لهُ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ هَلْ عَلَى غَيْرُهَا ؟ قَالَ لَا إلَّا أَن تَطوع