حدیقۃ الصالحین — Page 196
196 ومره، قال صدقت، قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ، قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُن تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ مَا الْمَسْولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا ، قَالَ أَنْ تَلِدَ الْأَمَهُ رَبَّتَهَا ، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ، قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ لِي يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَن السَّائِلُ ؟ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ (مسلم کتاب الایمان باب بیان الايمان و الاسلام (1) حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ہمارے پاس ایک بہت سفید کپڑوں میں ملبوس بہت سیاہ بالوں والا آدمی آیا، نہ تو اس پر کوئی سفر کے آثار نظر آتے تھے ، نہ ہی اُسے ہم میں سے کوئی جانتا تھا یہاں تک کہ وہ نبی صلی الی یکم کی طرف رخ کر کے بیٹھ گیا۔اس نے اپنے دونوں گھٹنے آپ کے دونوں گھٹنوں سے لگا دیئے اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں رانوں پر رکھے اور پھر کہا کہ اسے محمد صلی علیکم ! مجھے اسلام کے بارہ میں (کچھ ) بتائیے۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد لی لی یا اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ تم نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کر و اور رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اگر تم وہاں جانے کی طاقت رکھتے ہو۔اس نے کہا آپ نے ٹھیک کہا۔حضرت عمر نے کہا ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ (خود) ہی آپ سے سوال کرتا ہے اور (محمود) ہی آپ کی تصدیق کرتا ہے۔پھر اس نے کہا مجھے ایمان کے بارہ میں بتائیے۔آپ نے فرمایا کہ (ایمان یہ ہے کہ) تم اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ،اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر اور آخری دن پر اور اس کی خیر وشر کی تقدیر پر ایمان لاؤ۔اس نے کہا کہ آپ نے ٹھیک فرمایا پھر اس نے کہا کہ مجھے احسان کے بارہ میں بتائیے۔آپ نے فرمایا کہ (احسان یہ ہے کہ ) تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں یقین دیکھ رہا ہے۔پھر اس نے کہا کہ مجھے اس گھڑی کے بارہ میں بتائیے۔آپ نے فرمایا کہ جس سے اس کے متعلق پوچھا جارہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔پھر اس نے کہا کہ مجھے اس کی کوئی نشانی بتائیے۔آپ نے فرمایا کہ لونڈی