حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 176 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 176

176 حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا یہودیوں کی خط و کتابت کی زبان سیکھو کیونکہ مجھے یہودیوں پر اعتبار نہیں کہ وہ میری طرف سے کیا لکھتے ہیں اور کیا کہتے ہیں۔زید کہتے ہیں کہ نصف ماہ ہی گزرا تھا کہ میں نے سریانی میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔اس کے بعد جب بھی حضور علیہ السلام کو یہود کی طرف کچھ لکھنا ہو تا تو مجھ سے لکھواتے اور جب ان کی طرف سے کوئی خط آتا تو میں حضور صلی الی یکم کو پڑھ کر سناتا۔142۔عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَاتِبٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ضَعِ القَلَمَ عَلَى أُذُنِكَ فَإِنَّهُ أَذَكَّرُ لِلْمُمْلِي (ترمذی کتاب الاستئذان والادب باب ما جاء في تتريب الكتاب 2714) الله حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ صلی للی کم کے سامنے ایک خط تھا۔اس وقت میں نے حضور صلی علیہ ہم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (وقفہ کے دوران) قلم کو کان پر رکھا کر واس سے لکھانے والے کو بات زیادہ یاد رہتی ہے۔143- عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمُ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ ، فَإِنَّ مِنَ العِلْمِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا يَعْلَمُ اللهُ أَعْلَمُ ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ المُتَكَلِّفِينَ (بخاری کتاب التفسير باب قوله وما انا من المتكلفين 4809) حضرت مسروق بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس ہم آئے آپ نے کہا اے لوگو ! اگر کسی کو کوئی علم کی بات معلوم ہو تو بتا دینی چاہئے اور جسے علم کی کوئی بات معلوم نہ ہو تو سوال ہونے پر وہ جواب دے کہ اللهُ أَعْلَمُ یعنی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔کیونکہ یہ بھی علم کی بات ہے کہ انسان جس بات کو نہیں جانتا