حدیقۃ الصالحین — Page 164
164 بن مالک کہتے تھے۔جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ آپ واپس آرہے ہیں مجھے فکر ہوئی اور میں جھوٹی باتیں سوچنے لگا کہ کس بات سے کل آپ کی ناراضگی سے بچ جاؤں اور اپنے گھر والوں سے ہر ایک اہل رائے سے میں نے اس بارے میں مشورہ لیا۔جب یہ کہا گیا کہ رسول اللہ صلی للی کم آن پہنچے میرے دل سے سارے جھوٹے خیالات کافور ہو گئے اور میں نے سمجھ لیا میں کبھی بھی آپ کے غصہ سے ایسی بات سے بچنے کا نہیں جس میں جھوٹ ہو۔اس لئے میں نے آپ سے سچ سچ بیان کرنے کی ٹھان لی اور رسول اللہ صلی للی یکم تشریف لے آئے۔جب آپ کسی سفر سے آتے پہلے مسجد میں جاتے۔اس میں دور کعتیں پڑھتے۔پھر لوگوں سے ملنے کے لئے بیٹھ جاتے۔جب آپ نے یہ کیا تو پیچھے رہے ہوئے لوگ آپ کے پاس آگئے اور لگے آپ سے معذر تیں کرنے اور قسمیں کھانے اور ایسے لوگ اسی سے کچھ اوپر تھے۔رسول اللہ صلی الیکم نے ان سے ان کے ظاہر عذر مان لئے اور ان سے بیعت لی اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی اور ان کا اندرونہ اللہ کے سپر د کیا۔پھر میں آپ کے پاس آیا۔جب میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے ناراضگی والا تبسم فرمایا پھر فرمایا آؤ۔میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔آپ نے مجھے پوچھا۔کس بات نے تمہیں پیچھے رکھا؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی؟ میں نے کہا ہاں، میں اللہ کی قسم ایسا ہوں کہ اگر آپ کے سوا دنیا کے لوگوں میں سے کسی اور کے پاس بیٹھا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں کہ میں ضرور ہی اس کی ناراضگی سے عذر کر کے بچ جاتا۔( مجھے خوش بیان دی گئی ہے)۔مگر اللہ کی قسم میں خوب سمجھ چکا ہوں اگر میں نے آج آپ سے کوئی ایسی جھوٹی بات بیان کی جس سے آپ مجھ پر راضی ہو جائیں تو اللہ عنقریب مجھ پر آپ کو ناراض کر دے گا اور اگر یہ آپ سے سچی بات بیان کروں گا جس کی وجہ سے آپ مجھ پر ناراض ہوں تو میں اس میں اللہ کے عفو کی امید رکھوں گا۔نہیں اللہ کی قسم میرے لئے کوئی عذر نہیں تھا۔اللہ کی قسم میں کبھی بھی ایسا تنو مند اور آسودہ حال نہیں ہو اجتنا کہ اس وقت تھا جب آپ سے پیچھے رہ گیا۔رسول اللہ صلی نیلم نے یہ سن کر فرمایا اس نے تو سچ بیان کر دیا ہے۔اٹھو جاؤ۔یہاں تک کہ اللہ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ کرے۔میں اٹھ کر چلا گیا اور بنو سلمہ میں سے بعض لوگ بھی اٹھ کر میرے پیچھے ہو لئے۔انہوں نے مجھے کہا اللہ کی قسم ہمیں علم نہیں کہ تم نے اس سے پہلے کوئی قصور کیا ہو اور تم یہ بھی نہ کر سکے کہ رسول اللہ صلی علیم کے پاس کوئی بہانہ ہی بناتے۔جب کہ ان پیچھے رہنے والوں نے آپ کے