حدیقۃ الصالحین — Page 163
163 مسلمان ہے تیاری کریں۔آپ نے ان کو اس جہت کا بھی پتہ کر دیا جس طرف آپ جانا چاہتے تھے اور رسول اللہ صلی ال نیم کے ساتھ بکثرت تھے اور محفوظ رکھنے والی کوئی کتاب نہ تھی۔جو ان کی تعداد کو ضبط میں رکھتی۔کعب کی مراد اس سے رجسٹر تھا۔کعب کہتے تھے اور کوئی شخص بھی ایسا نہ تھا جو غیر حاضر رہنا چاہتا ہو۔وہ خیال نہ کرتا کہ اس کا غیر حاضر رہنا آپ سے پوشیدہ رہے گا۔جب تک کہ اس سے متعلق اللہ کی وحی نازل نہ ہو اور رسول اللہ صلی علیم نے یہ غزوہ اس وقت کیا کہ جب پھل لگ چکے تھے اور سائے اچھے تھے اور رسول اللہ صلی علیکم نے سفر کی تیاری شروع کر دی۔آپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی اور میں صبح کو جاتا تا میں بھی ان کے ساتھ سامان سفر کی تیاری کروں۔میں واپس لوٹتا اور کچھ بھی نہ کیا ہوتا۔میں اپنے دل میں کہتا کہ میں تیاری کر سکتا ہوں۔یہ خیال مجھے لیت و لعل میں رکھتا رہا۔یہاں تک کہ وہ وقت آگیا کہ لوگوں کو سفر کی جلدی پڑی اور رسول اللہ صلی الی یکم ایک صبح روانہ ہو گئے اور مسلمان بھی آپ کے ساتھ روانہ ہوئے اور میں اپنے سامان سفر کی تیاری میں سے کچھ بھی نہ نپٹا یا تھا۔میں نے سوچا کہ آپ کے جانے کے ایک دن یا دو دن بعد تیاری کرلوں گا اور پھر ان سے جاملوں گا۔ان کے چلے جانے کے بعد دوسری صبح باہر گیا کہ سامان تیار کرلوں۔مگر پھر واپس آگیا اور کچھ بھی نہ کیا۔پھر میں ا دوسرے دن گیا اور واپس لوٹ آیا اور کچھ بھی نہ نپٹایا اور یہی حال رہا یہاں تک کہ تیزی سے سفر کرتے ہوئے لشکر بہت آگے نکل گئے۔میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ کوچ کروں اور ان کو پالوں اور کاش کہ میں ایسا کرتا۔مگر مجھ سے یہ مقدر بھی نہ ہوا۔رسول اللہ صلی للی و ملک کے جانے کے بعد جب بھی میں لوگوں میں نکلتا اور ان میں چکر لگاتا تو میں ایسے ہی شخص دیکھتا جن پر نفاق کا عیب لگایا جاتا تھا۔ایسا شخص جس کو بوجہ نفاق ہونے کے حقارت سے دیکھا جاتا تھا یا کمزوروں میں سے ایسا شخص جس کو اللہ نے معذور ٹھہرایا تھا اور رسول اللہ صلی العلیم نے بھی مجھے اس وقت یاد کیا جب آپ تبوک میں پہنچے۔آپ نے فرمایا اور اس وقت آپ تبوک میں لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے ، کعب کہاں ہے ؟ بنو سلمہ میں سے ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم ! یارسول اللہ ! اس کو اس کی دو چادروں نے اور اس کے اپنے ! دائیں بائیں مڑ مڑ کر دیکھنے سے روک رکھا ہے۔معاذ بن جبل نے یہ سن کر کہا کیا یہ بری بات ہے جو تم نے کہی ہے ؟ یار سول اللہ ! اس کے متعلق ہمیں بھی اچھا ہی تجربہ ہے۔رسول اللہ صلی علی کرم یہ سن کر خاموش ہو گئے۔کعب