حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 162 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 162

162 يَرْضَى عَنِ القَوْمِ الفَاسِقِينَ (التوبة (96) قَالَ كَعْب وَكُنَّا تَخَلَّفْنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِكَ الَّذِينَ قَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَلَفُوا لَهُ، فَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ، وَأَرْجَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَنَا حَتَّى قَضَى اللَّهُ فِيهِ، فَبِذَلِكَ قَالَ اللهُ وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِفُوا التوبة (118) وَلَيْسَ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ مِمَّا خُلِفْنَا عَنِ الغَزْهِ، إِنَّمَا هُوَ تَخْلِيفُهُ إِيَّانَا، وَإِرْجَاؤُهُ أَمْرَنَا عَمَّنْ حَلَفَ لَهُ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُ (بخاری کتاب المغازی باب حديث كعب بن مالک و قول الله عز وجل و على الثلاثة۔۔۔4418) ابن شہاب نے عبد الرحمن بن عبد اللہ بن کعب بن مالک سے روایت کی کہ عبد اللہ بن کعب بن مالک اور وہ ان کے بیٹوں سے کعب کو جب وہ نابینا ہو گئے تھے پکڑ کر لے جایا کرتے تھے کہا کہ میں نے کعب بن مالک کو وہ واقعہ بیان کرتے سنا کہ جب کہ وہ پیچھے رہ گئے تھے یعنی تبوک کا واقعہ۔کعب نے کہا میں رسول اللہ صلی اللی نام سے کسی غزوہ میں بھی پیچھے نہیں رہا جو آپ نے کیا ہو۔سوائے غزوہ تبوک کے۔ہاں غزوہ بدر میں بھی پیچھے رہ گیا تھا اور آپ نے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا تھا کہ جو اس جنگ کے پیچھے رہ گیا تھا۔رسول اللہ صلی للی نیم صرف قریش کے قافلہ کو روکنے کے ارادے سے نکلے تھے۔مگر نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے بغیر اس کے کہ جنگ کی ٹھانی ہو ان کو دشمن سے ٹکرا دیا اور میں رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ عقبہ کی رات میں بھی موجود تھا۔جب ہم نے اسلام پر قائم رہنے کا پختہ عہد و پیمان کیا تھا اور میں نہیں چاہتا کہ اس رات کے عوض مجھے بدر میں شریک ہونے کی توفیق ملتی۔اگر چہ بدر لوگوں میں اس سے زیادہ مشہور ہے اور میری حالت یہ تھی کہ میں کبھی بھی اتناتنو مند اور خوشحال نہیں تھا جتنا کہ اس وقت جب کہ میں آپ سے اس غزوہ میں پیچھے رہ گیا۔اللہ کی قسم اس سے پہلے کبھی بھی میرے پاس اونٹ اکٹھے نہیں ہوئے اور اس حملہ کے اثناء میں دو اونٹ اکٹھے کر لئے تھے اور رسول اللہ صلی اللمعلم جبس غزوہ کا بھی ارادہ کرتے تھے تو آپ اس کو چھپا کر کسی اور طرف جانے کا اظہار کرتے۔جب وہ غزوہ ہو ا تو نبی صلی ال کی اس حملہ میں سخت گرمی کے وقت نکلے اور آپ کے سامنے دور دراز کا سفر اور غیر آباد بیابان اور دشمن تھا۔جو بہت سی تعداد میں تھا۔آپ نے مسلمانوں کو ان کی حالت کھول کر بیان کر دی تا کہ وہ اپنے اس غزوہ کے لئے جو تیاری کرنے کا حق