حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 155 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 155

155 حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی یم نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے۔اس نے ملک کے سب سے بڑے عالم کے بارہ میں پوچھا چنانچہ اسے ایک راہب کا پتہ بتایا گیا۔وہ شخص اس کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اس نے نانوے قتل کئے ہیں کیا اس کی تو بہ ہو سکتی ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔اس نے اسے بھی قتل کر دیا اور اس طرح سو پورے کر دئے۔اس نے پھر ملک کے سب سے بڑے عالم کے متعلق پو چھا۔تو پھر اسے ایک عالم کا پتہ بتایا گیا۔اس نے کہا کہ اس نے سو آدمیوں کو قتل کیا ہے کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔اس نے کہا ہاں۔بندہ اور اس کی توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے۔فلاں علاقہ کی طرف چلے جاؤ۔وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔پس تم بھی ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرو اور واپس اپنے ملک مت لوٹنا کیو نکہ وہ ملک بُرا ہے۔پس وہ چل پڑا، ابھی اس نے آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ اسے موت نے آلیا۔اس کے بارہ میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑنے لگے۔رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ اپنے دل سے تو بہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف آرہا تھا۔مگر عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی۔اتنے میں ان کے پاس انسانی صورت میں ایک فرشتہ آیا۔انہوں نے اسے اپنے در میان حکم بنالیا۔اس نے کہا کہ دونوں زمینوں کی پیمائش کرو۔پس جس کے وہ زیادہ قریب ہو گا وہ اسی کا ہو گا۔چنانچہ انہوں نے اس کی پیمائش کی تو انہوں نے اسے اس زمین کے زیادہ قریب پایا جس کی طرف جانے کا اس نے ارادہ کیا تھا۔تو رحمت کے فرشتوں نے اسے قبضہ میں لے لیا۔عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا، ثُمَّ خَرَجَ يَسْأَلُ، فَأَتَى رَاهِبًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ هَلْ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ لَا، فَقَتَلَهُ، فَجَعَلَ يَسْأَلُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ انْتِ قَرْيَةً كَذَا وَكَذَا، فَأَدْرَكَهُ المَوْتُ، فَنَاءَ بِصَدْرِهِ نَحْوَهَا، فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ العَذَابِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى