حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 134 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 134

134 آپ نے مشورہ شروع کیا تو وہ بھی مہاجرین کی طرح مختلف الرائے تھے۔آپ نے ان کا مشورہ سن کر فرمایا آپ جائے۔پھر مجھے فرمایا کہ میرے پاس جو یہاں قریش کے وہ بزرگ جو فتح مکہ سے پہلے کے مہاجر ہیں بلاؤ۔چنانچہ حضرت ابن عباس ان کو بلا لائے۔تو ان میں سے دو شخصوں نے بھی آپ کے سامنے اختلاف نہیں کیا۔وہ کہنے لگے۔ہم یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور اس وبا کے ہوتے ہوئے ان کو نہ لے جائیں۔چنانچہ حضرت عمر نے ان کے متفقہ فیصلہ کو پسند فرمایا اور یہ اعلان کیا کہ ہم کل صبح صبح روانہ ہوں گے قافلہ والے صبح چلنے کے لئے تیار رہیں۔حضرت عمر فضا یہ فیصلہ سن کر حضرت ابو عبیدۃ نے کہا کیا اللہ کی تقدیر سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں ؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا ابو عبیدہ یہ بات کسی دوسرے کو کہنی چاہئے تھی (آپ جیسے سمجھدار قائد سے اس کی توقع نہ تھی۔ہاں میں اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف فرار ہو رہا ہوں۔دیکھیں اگر آپ اپنے اونٹ ایک ایسی وادی میں چرنے کے لئے لے آئیں جس کا ایک کنارہ سر سبز و شاداب ہے اور دوسرا بنجر خشک آپ اپنے جانور وادی کے جس کنارہ پر چرائیں گے وہ اللہ کی تقدیر ہی ہو گی آپ کا کوئی فیصلہ اس کی تقدیر کے دائرہ سے باہر نہیں ہو گا۔الله سة حضرت ابن عباس کہتے تھے کہ اتنے میں حضرت عبد الرحمن بن عوف آئے اور وہ کسی اپنے کام کے لئے کہیں گئے ہوئے تھے وہ کہنے لگے مجھے اس کے متعلق ایک بات معلوم ہے جو میں نے رسول اللہ صلی علیم سے سنی آپ فرماتے تھے۔جب تم سنو کہ وبا کسی ملک میں ہے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر کسی ملک میں پڑے اور تم وہاں ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلو۔حضرت ابن عباس کہتے تھے۔حضرت عمرؓ نے سن کر اللہ کا شکر کیا اور وہیں سے واپس چلے گئے۔