حدیقۃ الصالحین — Page 128
128 - جلد بازی سے کام لیا، پھر آپ نے اس کو بلایا اور اس کو کہا یا کسی اور کو کہا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے رب کی تمجید سے اور اس کی ثنا سے شروع کرے پھر نبی صلی عوام پر درود بھیجے پھر جو چاہے دعا کرے۔رضائے الہی اور قرب خداوندی کے حصول کی کوشش 101- عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَرَ قَدَمَاهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَرَ؟ قَالَ أَفَلاَ أَحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا فَلَهَا كَثُرَ لَحْمُهُ صَلَّى جالسًا ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَقَرَأَ هُمْ رَكَعَ (بخاری کتاب التفسير باب ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك ، الفتح ، 4837) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی للی کم رات کو اٹھ کر نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ صلی علیہم کے پاؤں متورم ہو کر پھٹ جاتے۔ایک دفعہ میں نے آپ صلی الی نام سے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی علیکم ! آپ کیوں اتنی تکلیف اٹھاتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی این کرم کے اگلے پچھلے سب قصور معاف فرما دیئے ہیں۔اس پر حضور ملی یہ کم نے فرمایا کیا میں یہ نہ چاہوں کہ اپنے رب کے فضل و احسان پر اس کا شکر گزار بندہ بنوں۔جب آپ کی عمر زیادہ ہو گئی۔آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔جب آپ رکوع کا ارادہ فرماتے تو کھڑے ہو جاتے ، قراءت کرتے پھر رکوع کرتے۔المدرسة