حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 96 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 96

96 فَيَفْتَحُونَ لِي، وَيُرَحْبُونَ فَيَقُولُونَ مَرْحَبًا، فَأَخِرُ سَاجِدًا، فَيُلْهِمُنِي اللَّهُ مِنَ الثَّنَاءِ وَالْحَمْدِ، فَيُقَالُ لِي ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْط ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَقُلْ يُسْمَعْ لِقَوْلِكَ، وَهُوَ المَقَامُ المَحْمُودُ الَّذِي قَالَ اللهُ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا (سنن ترمذی کتاب التفسير باب و من سورة بنى اسرائيل 3148) حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا ہم نے فرمایا " قیامت کے دن میں سارے انسانوں کا سردار ہوں گا، اور اس پر مجھے کوئی فخر نہیں ہے ، میرے ہاتھ میں حمد وشکر) کا پرچم ہو گا اور مجھے (اس اعزاز پر) کوئی فخر نہیں ہے۔اس دن آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہیں سب کے سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے ، میں پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے زمین پھٹے گی اور مجھے اس پر بھی کوئی فخر نہیں ہے ، آپ نے فرمایا "(قیامت میں) لوگوں پر تین مرتبہ سخت گھبراہٹ طاری ہو گی، لوگ آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے آپ ہمارے باپ ہیں، آپ اپنے رب سے ہماری شفاعت کیجئے، وہ کہیں گے مجھ سے ایک گناہ سر زد ہو چکا ہے جس کی وجہ سے میں زمین پر بھیج دیا گیا تھا، تم نوح کے پاس جاؤ، وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے ، مگر نوح (علیہ السلام) کہیں گے میں زمین والوں کے خلاف بد دعا کر چکا ہوں جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک کیے جاچکے ہیں، لیکن تم ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، ابراہیم (علیہ السلام) کہیں گے میں تین جھوٹ بول چکا ہوں ، آپ نے فرمایا " ان میں سے کوئی جھوٹ جھوٹ نہیں تھا، بلکہ اس سے اللہ کے دین کی حمایت و تائید مقصود تھی، البتہ تم موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ، تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے ، موسیٰ (علیہ السلام) کہیں گے میں ایک قتل کر چکا ہوں، لیکن تم عیسی (علیہ السلام) کے پاس چلے الله سة جاؤ۔تو وہ عیسی (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے ، وہ کہیں گے اللہ کے سوا مجھے معبود بنالیا گیا تھا، تم محمد (صلی انی) کے پاس جاؤ، آپ نے فرمایا "لوگ میرے پاس آئیں گے، میں ان کے ساتھ جاؤں گا"، ابن جدعان (راوی) کہتے ہیں انس نے کہا مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں رسول اللہ (صلی علی یم) کو دیکھ رہاہوں، آپ نے فرمایا "میں جنت کے دروازے کا حلقہ (زنجیر ) پکڑ کر اسے ہلاؤں گا، پوچھا جائے گا کون ہے ؟ کہا جائے گا محمد ہیں، وہ لوگ میرے لیے