حدیقۃ الصالحین — Page 94
94 عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى المَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ إِنِّي فَرَطُ لَكُمْ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِى الآنَ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ـ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ـ وَإِنِّي وَاللهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِى، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا (صحیح بخاری کتاب الجنائز باب الصلوة على الشهيد (1344) حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نکلے اور آپ نے اُحد والوں کے لئے اسی طرح دعا کی جس طرح میت کے لئے کیا کرتے تھے۔پھر آپ منبر کی طرف مڑ گئے اور فرمایا دیکھو میں تمہارا پیش خیمہ ہوں اور میں تمہارے لئے گواہ ہوں اور میں اللہ کی قسم! اپنے حوض کو اس وقت دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں یا فرمایاز مین کی چابیاں دی گئی ہیں اور مجھے بخدا تمہارے متعلق خوف نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے ، بلکہ مجھے تمہارے متعلق یہ خوف ہے کہ تم دنیا میں لگ جاؤ گے۔65 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ فَلَمَّا كَانَ اليَوْمُ الَّذِى دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ اليَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، وَلَمَّا نَفَضْنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَيْدِى وَإِنَّا لَفِي دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا۔رسنن ترمذی کتاب المناقب باب فى ما جاء فضل النبى الام 3618) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس دن مدینہ تشریف لائے تھے۔آپ صلی یک کم کی آمد کی وجہ سے اس دن مدینہ کا گوشہ گوشہ روشن ہو گیا تھا اور جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے مدینہ کی ہر جگہ تاریک ہو گئی۔اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ ہم کو دفن کیا اور ابھی ہمارے ہاتھوں سے مٹی بھی صاف نہیں ہوئی تھی اور ہم ابھی آپ کی تدفین میں ہی مشغول تھے کہ ہمارے دل بدلنے لگے۔