حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 92 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 92

92 ابو اسحاق کہتے تھے میں نے حضرت بر اٹھ کو دیکھا کہ وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر جھاڑتے تھے۔اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں تھوڑا سا دودھ دوہا۔میرے پاس چھاگل تھی (سفر میں) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اُٹھالایا تھا تا آپ اس سے سیر ہو کر پانی پئیں اور وضو کریں۔میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے پسند نہ کیا کہ آپ کو جگاؤں۔میں آپ کے پاس اس وقت آیا جب آپ خو د جاگے۔میں نے کچھ پانی دودھ پر ڈالا۔یہاں تک کہ وہ نیچے تک ٹھنڈ ا ہو گیا۔میں نے کہا یارسول اللہ! پیجئے۔(حضرت ابو بکر کہتے تھے) آپ نے اتنا پیا کہ میں خوش ہو گیا۔پھر آپ نے فرمایا کیا ابھی کوچ کا وقت نہیں آیا؟ میں نے کہا ہاں آگیا ہے۔کہتے تھے جب سورج ڈھل چکا تو ہم وہاں سے روانہ ہو گئے اور سراقہ بن مالک ہمارا تعاقب کر رہا تھا۔میں نے کہا یا رسول اللہ ! ہمیں دشمن نے پا لیا ہے۔آپ نے فرمایا غم نہ کریں۔اللہ ہمارے ساتھ ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف دعا کی تو اس کا گھوڑا اس کے سمیت اپنے پیٹ تک سخت زمین میں دھنس گیا۔زہیر نے شک کیا کہ آیا سخت کا لفظ کہا تھا یا نہیں۔سراقہ کہنے لگا میں سمجھتا ہوں کہ آپ دونوں نے مجھ پر بد دعا کی ہے۔اس لئے میرے لئے اب دعا کریں۔اللہ کے نام کا یہ وعدہ آپ سے کرتا ہوں کہ میں تعاقب کرنے والوں کو تم سے واپس کر دوں گا۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی اور اس نے چھٹکارا پایا تو وہ جس کسی سے بھی ملتا یہی کہتا میں تمہاری جگہ دیکھ آیا ہوں۔چنانچہ وہ جس کسی کو بھی ملتا، اسے واپس کر دیتا۔کہتے تھے اور اس نے ہم سے وفاداری کی۔64 - عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيْتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنِّي فَرَةٌ لَكُمْ، وَأَنَا شَبِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي، وَاللهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا (مسلم کتاب الفضائل باب اثبات حوض نبينا الله و صفاته 4234)