حدیقۃ الصالحین — Page 91
91 وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ ، فَقُلْتُ أُتِينَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَظمَتْ بِهِ فَرَسُهُ إِلَى بَظيها - أرى في جَلدٍ مِن الأَرْضِ شَكَ زُهَيْرُ فَقَالَ إِنِّي أَرَاكُما قَدْ دَعَوْتُمَا عَلَى، فَادْعُوا لي فَاللَّهُ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا القَلبَ، فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَجَا فَجَعَلَ لَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا قَالَ قَدْ كَفَيْتُكُمْ مَا هُنَا، فَلاً يلقَى أَحَدًا إِلَّا رَذْهُ، قَالَ وَوَفَى لَنَا (بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة في الاسلام (3615) حضرت براء بن عازب کہتے تھے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے باپ کے پاس ان کے مکان میں آئے اور اس سے ایک پالان خریدی۔انہوں نے حضرت عازب سے کہا اپنے بیٹے کو میرے ساتھ بھیجو کہ وہ میرے ساتھ یہ اُٹھا کر لے جائے۔حضرت برا کہتے تھے چنانچہ میں ان کے ساتھ پالان اُٹھا کر لے گیا اور میرے باپ اس کی قیمت پر کھوانے کے لئے نکلے تو میرے باپ نے ان سے کہا ابو بکر؟! وہ واقعہ تو مجھے بتائیں کہ جب آپ نے رسول اللہ صلی این نیم کے ساتھ سفر کیا تھا تو آپ دونوں نے کیا کیا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں ہم رات بھر چلتے رہے اور دوسرے دن بھی اس وقت تک کہ جب ٹھیک دوپہر کا وقت ہو گیا اور راستہ بالکل خالی ہو گیا۔کوئی بھی اس پر نہیں گذر تا تھا اور ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی جس کا سایہ تھا۔وہاں دھوپ نہیں آئی تھی۔ہم اس کے پہلو میں اُترے اور میں نے نبی صلی الیکم کے لئے جگہ اپنے ہاتھ سے درست کی تا آپ وہاں سوئیں اور میں نے اس جگہ پر پوستین بچھا دی اور کہا یارسول اللہ ! سو جائیں اور میں آپ کے ارد گر دسب طرف نگاہ رکھوں گا (یعنی پہرہ دوں گا۔آپ سو گئے اور میں آپ کے ارد گرد نگاہ ڈالنے کی نیت سے نکلا۔میں نے اچانک کیا دیکھا کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں لئے اسی چٹان کی طرف سامنے سے آرہا ہے۔وہ بھی اس چٹان کے سایہ میں اسی طرح ٹھہر نا چاہتا تھا جس طرح ہم نے چاہا۔میں نے پوچھا لڑ کے تم کس کے ہو ؟ اس نے کہا مدینہ والوں میں سے ایک شخص کا ، یا کہا ) مکہ کے ایک شخص کا۔میں نے پوچھا کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے ؟ اس نے کہاہاں۔میں نے کہا پھر کیا تم دودھ دو ہو گے ؟ اس نے کہا ہاں۔اس نے ایک بکری لی۔میں نے کہا تھن کو مٹی، بال ، کیچڑ وغیرہ سے صاف کر دو۔