ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 53 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 53

لینے کا حق دار ہے۔۵۳ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے۔وان طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِشَفُ مَا فَرَضْتُم له (بقره ٣١٤) نصف مہر کے احکام تین امور پر مبنی ہیں۔اول: مختلف قسم کے نکاحوں میں سے نصف جہر کا حکم کس قسم کے نکاح کے ساتھ متعلق ہے۔دوم : مختلف قسم کی طلاقوں میں سے جو کہ تعلقات زوجیت سے قبل واقع ہوتی ہیں ان میں سے کونسی طلاق اس حکم کی موجب ہے۔سوم : وہ تغیرات جو طلاق سے قبل لاحق ہوتے ہیں ان کا کیا حکم ہے۔امام مالک کے نزدیک اگر جملہ شرائط کی پابندی کے ساتھ نکاح ہو چکا ہو اور پھر تعلقات زوجیت کے قیام سے قبل طلاق واقع ہو تو اس صورت میں نصف ہر واجب ہوگا۔لیکن اگر نکاح فائر ہوا ہو اور بذریعہ فسخ ابھی مفارقت نہ ہوئی ہو اور اس سے پہلے پہلے خاوند طلاق دیدے تو اس صورت میں امام مالک کی دور ائیں منقول ہیں۔ایک رائے کے مطابق نصف مہر دینا پڑے گا اور ایک رائے کے مطابق نہیں۔نصف مہر کی وجہ وہ طلاق ہے جو خاوند خون نے۔رہا یہ سب کہ خاوند مہر ادا نہیں کر سکتا یا تنگدستی کی وجہ سے گزارہ نہیں دے سکتا۔اور اس وجہ سے عورت نے طلاق کا مطالبہ کیا ہے تو ایسی صورت میں نصف مہر ادا کرنے کے متعلق اختلاف ہے۔تمام ایسے فسخ نکاح جو طلاق کا حکم نہیں رکھتے ان میں نصف مہر بھی واجب نہیں ہوتا مثلاً شیخ نکاح اس وجہ سے ہوا ہو کہ عقد نکاح میں کسی شرط کی پابندی نہ ہوئی ہو مثلاً اہے تو چہرہ اور اگرتم انہیں قبل اس کے کہ تم نے انہیں چھوا ہو لیکن چہر مقرر کر دیا ہو۔طلاق دے دو تو اس صورت میں جو ہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا آدھا ان کے سپرد کرنا ہوگا۔(بقرہ ع۳۱) نکات فاسد وہ ہے جس میں شرائط نکاح میں سے کوئی ایک شرط ملحوظ نہ رکھی گئی ہو۔مثلاً اعلان نکاح گواہان کی گواہی کیسی فریق کی عدم رضا مندی وغیرہ۔