ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 285
۲۸۵ وہ آزاد ہوں یا غلام یا ایک غلام ہو اور ایک آزاد - عادل ہوں یا غیر عادل - خواہ دونوں مسلمان ہوں یا مرد مسلمان ہوا اور عورت اہل کتاب۔دو کافروں کے درمیان بعان نہیں ہو سکتا۔سوائے اس کے کہ وہ خود قانون شریعیت کو قبول کریں۔یہ مذہب امام مالک اور امام شافعی کا ہے۔امام ابو حنیفہ اور آپ کے اصحاب کا مذہب یہ ہے کہ ریحان صرف دو مسلمان۔آزاد - عادل کے درمیان ہو سکتا ہے۔خلاصہ یہ کہ ان کے نزدیک الحان صرف ان لوگوں کے درمیان ہو سکتا ہے۔جو شہادت کی اہلیت رکھتے ہوں۔امام مالک اور ان کے ہم نواؤں کی دلیل اللہ تعالیٰ کا عمومی ارشاد ہے :- وَالَّذِينَ يَرْمُونَ ازْوَاجُهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسَهُمْ (نوع) اس آیت میں زوجین کے لئے کوئی شرط مقرر نہیں کی گئی۔امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ بعان شہادت کے قائمقام ہے۔اس لئے یعان ایسے افراد کے درمیان ہو سکتا ہے جو خود شہادت کی اہلیت رکھتے ہوں۔کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے انکو شہداء قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرمایا :- : فَشَهدَة أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللهِ (نوع ) نیز امام صاحب اور آپ کے ساتھیوں کی دوسری دلیل یہ ہے کہ یوان اُن کے درمیان ہو سکتا ہے جن کو قذف کی وجہ سے حد لگائی جاسکتی ہے۔اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ غلام پر حد قذف نہیں لگائی جا سکتی۔گویا انہوں نے ریحان کرنے والوں کو ان لوگوں کے مشابہ قرار دیا ہے جن کو حد قذف لگتی ہے کیونکہ لعان کی غرض ہی صرف یہ ہے کہ لعان کرنے والوں کو حد قذف سے بچایا جائے۔ہیں جب ان کو شرعاً حد قذف لگ ہی نہ سکتی ہو تو پھر بیان کا کیا مطلب؟ اس کے علاوہ امام صاحب اور ان کے ساتھیوں کی ایک دلیل آنحضرت صلحم - کا یہ ارشاد ہے :-