ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 284
۲۸۴ امام مالک کے تین اقوال مردی ہیں: (1) اسے حد لگائی جائیگی اور بچہ اس کی طرف منسوب ہو گا اور اُسے لعان کا اختیار نہ ہوگا۔(۲) وہ لعان کرے گا۔اور بچہ اس کی طرف منسوب نہ ہو گا۔(۳) وہ لعان کرے گا اور بچہ اس کی طرف منسوب ہوگا۔اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ کیا اس صورت میں اس کے دعوئی زناء کی طر التفات کیا جائیگا یا حمل کو اپنی طرف منسوب کرنے کی طرف ؟ جن کے نزدیک دعوی زناء کو دیکھا جائیگا اُن کے نزدیک بچہ اس کی نظر منسوب۔نہ ہو گا اور وہ لعان کریگا۔جن کے نزدیک اس صورت میں اس جہت کو دیکھا جائیگا کہ اس نے بچہ کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔اُن کے نزدیک بچہ اس کی طرف منسوب ہو گا اور دعوی زناء کی وجہ سے اُسے حد لگائی جائیگی۔اس بارہ میں ایک اختلاف یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگانے کی بجائے چار گواہ پیش کرتا ہے تو کیا اس صورت میں وہ لعان کریگا؟ یا اس کی بیوی کو لگائی جائیگی۔داؤد اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک وہ ریحان نہیں کریگا کیونکہ یعان کا حکم تو گواہوں کی عدم موجودگی میں ہے۔جب گواہ موجود ہوں تو پھر لعان کی کیا ضرورت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :- والذين يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أنْفُسُهُمْ ( نوع ) امام مالک اور شافعی کے نزدیک وہ لعان کرینگے کیونکہ میاں بیوی کے معاملہ میں گواہوں کا کوئی اثر نہیں ہے۔یعان کرنے والوں کے اوصاف فقہاء کی ایک جماعت کے نزدیک یعان میاں بیوی کے درمیان ہو سکتا ہے خواہ