ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 241 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 241

۲۴۱ (4) ایلاء کے بعد خاوند نہ طلاق دے نہ رجوع کرے تو کیا قاضی اس کی بیوی کی علیحدگی کا فیصلہ دے سکتا ہے یا نہیں ؟۔(6) ایلار کی صورت میں طلاق دینے کے بعد اگر کوئی شخص دوبارہ رجوع کرے تو کیا اس صورت میں ایلاء کا حکم بھی دوبارہ لاحق ہو جاتا ہے۔یا نہیں ؟ (۸) کیا ایلاء کے بعد عورت کے لئے عدت گزارنا ضروری ہے یا نہیں؟ (4) کیا غلام کے ایلاء کا حکم بھی وہی ہے جو آزاد کے ایلاد کا ہے یا اس سے مختلف ہے ؟ (۱۰) کیا ایلا کے بعد رجوع کے لئے عدت کے اندر مجامعت ضروری ہے۔یا نہیں ؟ اب ان مسائل کے متعلق فقہاء کے مذاہب۔ان کے دلائل اور وجوہ ہی اختلاف بالترتیب بیان کئے جاتے ہیں :- پہلا اختلاف یہ ہے کہ چار ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد عورت کو خود بخود طلاق واقع ہو جائے گی یا اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ خاوند رجوع کرتا ہے یا طلاق دیتا ہے۔چنانچہ خاوند کے اس رویہ کے مطابق اس پر حکم لگایا جائے گا۔اس کے متعلق فقہاء کا مسلک درج ذیل ہے۔امام مالک - امام شافعی - احمد - ابونور - دار د اور لیث کا مذہب یہ ہے کہ چار ماہ گزرنے کے بعد توقف کیا جائے گا۔اس کے بعد اگر اس کا خاوند طلاق دے گا تو اسے طلاق ہوگی اگر رجوع کرے گا تو طلاق واقع نہ ہوگی۔یہی مذہب حضرت علی اور ابن عمر کا ہے۔امام ابو حنیفہ اور آپ کے اصحاب ثوری اور کو فیین کا مذہب یہ ہے کہ اگر وہ چار ماہ کے اندر رجوع کرلے گا تو بہتر ورنہ چار ماہ کے بعدا سے خود بخود